سوال:
مفتی صاحب! کرپٹو کی اسپاٹ ٹریڈنگ حلال ہے یا نہیں؟ کرپٹو کرنسی جیسے Bitcoin یا Ethereum کو موجودہ مارکیٹ قیمت پر خریدنے اور بیچنے کا سب سے سادہ طریقہ ہے، جس میں فوری ملکیت اور لین دین (سیٹلمنٹ) ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے آپ ڈیجیٹل اثاثوں کو براہِ راست اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، نکال سکتے ہیں یا منتقل کر سکتے ہیں، اور اس میں لیوریج کے خطرات شامل نہیں ہوتے، اس لیے یہ نئے صارفین اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
آپ مختلف قسم کے آرڈرز (جیسے مارکیٹ یا لمٹ آرڈر) دے کر ایک کرپٹو کو دوسری کرپٹو کے بدلے فوراً تبدیل کر سکتے ہیں، اور ٹریڈ مکمل ہوتے ہی وہ اثاثہ آپ کے والٹ میں آ جاتا ہے۔
یہ کیسے کام کرتی ہے؟ (How it works) فوری تبادلہ (Instant Exchange) :
آپ ایک کرپٹو کو دوسری کرپٹو کے بدلے تبدیل کرتے ہیں (مثلاً BTC کو ETH کے بدلے) یا فیاٹ کرنسی (جیسے USD) استعمال کر کے موجودہ قیمت پر کرپٹو خریدتے ہیں۔
جب ٹریڈ مکمل ہو جاتی ہے تو کرپٹو کرنسی آپ کی ملکیت بن جاتی ہے، برخلاف derivatives کے جن میں آپ صرف معاہدوں (contracts) کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اس میں لیوریج اور لیکویڈیشن کے خطرات نہیں ہوتے، کیونکہ آپ کا ممکنہ نقصان اسی رقم تک محدود ہوتا ہے جو آپ نے لگائی ہو، جیسا کہ Binance کے مطابق بتایا جاتا ہے۔
Order Types (آرڈر کی اقسام):
آپ Market Order استعمال کر سکتے ہیں تاکہ ٹریڈ فوراً مکمل ہو جائے یا Limit Order استعمال کر سکتے ہیں تاکہ آپ اپنی مطلوبہ خرید یا فروخت کی قیمت مقرر کر سکیں۔
جواب: کرپٹو کرنسی (Crypto Currency) چونکہ کرنسی کی ایک جدید ڈیجیٹل شکل ہے، جس کی حقیقیت ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی، نیز اس کے ریٹ میں تیزی سے تبدیلی کی وجہ سے اس میں عدم استحکام اور بہت سے ملکوں میں حکومتوں کی پشت پناہی نہ ہونے اور اس قسم کے دیگر مختلف پہلووں سے علماء کرام تحقیق کررہے ہیں، لیکن اب تک اس پر شرعی اصولوں کا اطلاق اور اس کی شرعی حیثیت پورے طور پر واضح نہیں ہوسکی ہے، اس لئے فی الحال اس کے ذریعے معاملات میں لین دین کرنے سے احتیاط کرنی چاہئے۔
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی