سوال:
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ، جناب حضرت مفتی صاحب! میرے ایک قریبی دوست نے 2 جولائی 2018 کو حلال شیئرز میں تقریباً 9,224 شیئرز کی سرمایہ کاری کی تھی، اس وقت قیمت 19.20 روپے فی شیئر تھی، یعنی کل رقم تقریباً 177,101 روپے تھی۔ بعد ازاں انتظامیہ نے گاہکوں کی یہ سرمایہ کاری ایک دوسری انتظامیہ کو فروخت کر دی، جس نے گاہکوں کو علم دیے بغیر ان کا پیسہ سودی شیئرز میں لگا دیا، میرے دوست کو جب پتا چلا کہ اس کا سرمایہ حلال میں نہیں ہے تو اس نے حال ہی میں پوری رقم نکال لی۔ 5 مئی 2026 کو یہ رقم تقریباً 358,110 روپے تھی۔
یاد رہے کہ جولائی 2018 میں 177,101 روپے کی قوّت خرید مئی 2026 میں پاکستان میں تقریباً 400,000 سے 410,000 روپے کے برابر ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو رقم سودی منافع (انٹرسٹ) کے طور پر بنی، اس میں سے کتنی رقم دوسرے فریق کو بغیر کسی اجر کے دی جائے؟ جزاک اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں جائز اور حلال شیئرز میں کی گئی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہوگا، اس کے بعد انتظامیہ نے اگر واقعی سودی یا دیگر ناجائز کاروبار میں وہ پیسے لگائے تو اس سے حاصل ہونے والا نفع حلال نہیں ہوگا۔
لہذا آپ کے لیے صرف اصل سرمایہ اور جائز کاروبار میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہوگا، ناجائز یا سودی سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والا نفع حلال نہیں ہوگا، بلکہ بغیر نیتِ ثواب اسے صدقہ کرنا کرنا شرعاً لازم ہے۔
واضح رہے کہ محض افراطِ زر (Inflation) یا قوّتِ خرید (Purchasing Power) میں کمی بیشی کی وجہ سے ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حلال نہیں کہا جاسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*معارف السنن: (باب ما جاء لا تقبل صلاة بغیر طهور، 34/1، ط: سعید)*
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالهدایۃ وغیرها: أن من ملکك بملك خبیث، ولم یمکنه الرد إلی المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولا یرجو بہ المثوبة
*رد المحتار: (553/9، ط. زکریا دیوبند)*
و إلا تصدقوا بها لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبها.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*معارف السنن: (باب ما جاء لا تقبل صلاة بغیر طهور، 34/1، ط: سعید)*
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالهدایۃ وغیرها: أن من ملکك بملك خبیث، ولم یمکنه الرد إلی المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولا یرجو بہ المثوبة
*رد المحتار: (553/9، ط. زکریا دیوبند)*
و إلا تصدقوا بها لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبها.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی