سوال:
محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ ایک کاروباری معاملہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
زاہد نامی شخص کا ایک کاروبار ہے، جس میں مختلف پارٹیاں اس سے مال طلب کرتی ہیں۔ زاہد یہ مال مارکیٹ سے خرید کر ان پارٹیوں کو فراہم کرتا ہے۔ یہ خرید و فروخت کا عمل باقاعدگی سے جاری رہتا ہے، تاہم اس کی ترتیب یکساں نہیں ہوتی، یعنی: کبھی ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ سودا ہوتا ہے، کبھی مہینے میں ایک، دو یا تین مرتبہ سودا ہو جاتا ہے۔
ایک سودے کی مالیت کبھی 15 لاکھ، کبھی 20 لاکھ اور کبھی 25 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے
مزید یہ کہ بعض اوقات پہلے سودے کی رقم ابھی زاہد کو موصول نہیں ہوئی ہوتی کہ نئی ڈیمانڈ آ جاتی ہے، اور وہ مزید مال ادھار پر لے آگے پارٹی کو فراہم کر دیتا ہے، بعض اوقات ایک سودے کی رقم ایک ہی مہینے میں وصول ہو جاتی ہے، جبکہ بعض اوقات ادائیگی ایک یا دو مہینے بعد موصول ہوتی ہے۔
اب خالد نامی شخص زاہد کے ساتھ کاروبار میں بطور سرمایہ کار شامل ہوتا ہے اور وہ زاہد کو تقریباً دو لاکھ روپے بطور سرمایہ دیتا ہے، اس شرط پر کہ اسے منافع دیا جائے گا۔
اس ضمن میں شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ زاہد، خالد کو منافع کس بنیاد پر دے؟
کیا ہر سودے (ڈیل) کے حساب سے منافع دینا ضروری ہے یا ماہانہ بنیاد پر مجموعی نفع نکال کر اس میں سے حصہ دیا جائے یا سالانہ حساب کر کے منافع تقسیم کرنا درست ہوگا؟ جبکہ کاروبار میں ادائیگیاں غیر متعین وقت پر آتی ہیں (کبھی فوراً، کبھی تاخیر سے) تو ایسی صورت میں منافع کی تقسیم کا درست اور شرعی طریقہ کیا ہونا چاہیے؟
براہِ کرم اس معاملے میں قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں واضح اور مفصل رہنمائی فرمائیں تاکہ فریقین شرعی طور پر درست طریقے پر عمل کر سکیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں زاہد، خالد کو مضاربت کی بنیاد پر نفع دے سکتا ہے، جس میں خالد (ربّ المال) کی طرف سےسرمایہ ہوگا اور زاہد (مضارب) کام کرے گا۔
اس صورت میں سب سے پہلے زاہد اور خالد باہمی رضامندی سے نفع کا کوئی تناسب طے کریں، مثلاً: پچاس پچاس فیصد کہ خالد کو نفع کا 50 فیصد ملے گا اور زاہد کو 50 فیصد، یا اس کے علاوہ کوئی بھی تناسب طے کیا جاسکتا ہے۔
نیز یہ بھی واضح کردیا جائے کہ خالد صرف ان سودوں کے نفع میں شریک ہوگا جو خالد کے سرمایہ سے کیے جائیں گے۔ نفع کی تقسیم ہر سودے کے بعد بھی کی جاسکتی ہے، اور علی الحساب ماہانہ یا سالانہ بنیاد پر بھی کی جاسکتی ہے۔
ہر سودے کے اعتبار سے نفع کی تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ زاہد، خالد کے سرمایہ سے جو بھی سودا کرے گا، اس کی رقم وصول ہونے کے بعد سب سے پہلے اسی سودے سے متعلق براہِ راست اخراجات، مثلاً: ٹرانسپورٹ اور مزدوری وغیرہ منہا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد اس سودے میں خالد کے لگائے گئے اصل سرمایہ کو الگ کیا جائے گا۔ جو رقم اس کے بعد باقی بچے گی، وہ نفع شمار ہوگی، اور یہ نفع فریقین کے درمیان پہلے سے طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
یہ بات واضح رہے کہ بالواسطہ اخراجات، یعنی وہ اخراجات جو کسی خاص سودے کی وجہ سے نہیں بلکہ زاہد کے کاروبار کے عمومی اور جاری اخراجات کے طور پر زاہد کو کرنے پڑتے ہوں، ایسے اخراجات زاہد، خالد کے ساتھ کی گئی مضاربت پر نہیں ڈال سکتا، یہ اخراجات زاہد خود برداشت کرے گا، البتہ زاہد ان عمومی اخراجات کا تخمینی لحاظ رکھتے ہوئے مضاربت میں اپنے نفع کا تناسب زیادہ مقرّر کرسکتا ہے۔
مزید یہ کہ مضاربت میں اگر نقصان زاہد کی لاپرواہی، کوتاہی یا غفلت کے بغیر ہو تو یہ نقصان سرمایہ فراہم کرنے والے (خالد) کا ہوگا، اور کام کرنے والا (زاہد) اس نقصان میں شریک نہیں ہوگا۔ اسی طریقہ سے ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر حاصل شدہ رقم میں سے نفع نکال کر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 85، ط: دار الكتب العلمية):
(وأما) الذي يرجع إلى الربح فأنواع. (منها) إعلام مقدار الربح ........... (ومنها) أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 440، ط: دار الجيل):
يكون المضارب في المضاربة المطلقة مأذونا بالعمل في لوازم المضاربة والأشياء التي تتفرع عنها بمجرد عقد المضاربة، فلذلك له أولا: شراء المال لأجل بيعه والربح منه، لكن إذا اشترى مالا بالغبن الفاحش يكون اشتراه لنفسه ولا يدخل في حساب المضاربة، ثانيا: له البيع سواء كان بالنقد أو بالنسيئة بثمن قليل أو كثير لكن له الإمهال للدرجة الجاري العرف والعادة فيها بين التجار.
مستفاد من التبویب لجامعۃ دار العلوم کراتشی (1725/57)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی