resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: باہمی رضامندی سے مارکیٹ کی قیمت سے کم پر سونے کی خرید وفروخت اور سونے کی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی خریدار پر لازم کرنے کا حکم

(41991-No)

سوال: ایک شخص کی بیوی نے اپنا سونے کا ہار اپنے سسر کو مارکیٹ ویلیو پر فروخت کیا تھا۔ بعد میں باہمی رضامندی سے اسی قیمت پر واپس دینے کی بات ہوئی، مگر اس شرط پر معاملہ کر رہے تھے کہ اب تک ہم نے ان زیورات کی جو زکوٰۃ ادا نہیں کی ہے وہ اس شخص کی بیوی ادا کرے گی۔ اس شرط کی وجہ سے وہ معاملہ منسوخ ہوگیا اور دونوں طرف سے چیز اور رقم واپس ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد وہ شخص اپنی والدہ سے وہی سونے کا سیٹ (جس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً چار لاکھ روپے ہے) ڈیڑھ لاکھ روپے نقد کے بدلے بغیر کسی شرط کے از سرِ نو ایک ہی مجلس میں خریدنا چاہتا ہے۔ کیا اس طرح کا خرید و فروخت شرعاً جائز ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر سونے کے ہار کا سودا باہمی رضامندی سے ڈیڑھ لاکھ کے عوض آپ لوگوں کے درمیان طے ہوجائے، اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے متعلق مذکورہ شرط یا اس کے علاوہ کوئی اور خلافِ شرع شرط اس سودے میں نہ رکھی جائے تو یہ معاملہ کرنا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الفتاویٰ الھندیة: (2/3، ط: دار الفكر)*
أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في الكافي وأما ركنه فنوعان أحدهما الإيجاب والقبول

*فيه أيضاً: (172/1، ط: دار الفكر)*
ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial