عنوان: کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب نے اسلام قبول کیا تھا؟(103643-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! احادیث کی روشنی میں اس بات کی وضاحت فرمادیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد ابو طالب کا انتقال حالت اسلام میں ہوا تھا یا وہ موت تک کافر ہی رہے تھے، اور اگر کوئی مسلمان ابو طالب کے کفر کا انکاری ہو اور ان کے مسلمان ہونے کا عقیدہ رکھے، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: رسول اللہ ﷺ کے چچا ابوطالب نے آپ ﷺ کا ہر موقع پر ساتھ دیا اور ہر سطح پر آپ ﷺ کی مدد بھی کی، یہاں تک کہ قریش کے قبائل نے جب متفقہ طور پر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بائیکاٹ کیا، تو ابوطالب نے آپ ﷺ اور مسلمانوں کا مکمل تعاون کیا، اور مسلمانوں کے ساتھ تمام پابندیاں برداشت کیں اور تکلیفیں اٹھائیں، اسی وجہ سے اس گھاٹی کا نام ’’شعب ابی طالب‘‘ پڑا۔ تاہم اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اس موقف پر قرآن و حدیث کے دلائل شاہد ہیں۔
دلیل نمر:١
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : 
﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (۲۸-القصص : ٥٦)
”اے نبی ! آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔“
یہ آیت کریمہ بالاتفاق ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جیسا کہ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فقد أَجمع المفسرون علي انھا نزلت في ابي طالب، وكذا نقل إجماعھم علي ھذا الزجاج وغيره، وھي عامه فانه لا يھدي الا يضل الا الله تعاليٰ.
( شرح صحیح مسلم للنووی : ج:1،ص:215،ط:داراحیاءالتراث العلمی)

ترجمہ: ”مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت کریمہ ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ زجاج وغیرہ نے مفسرین کا اجماع اسی طرح نقل کیا ہے۔ یہ آیت عام ( بھی ) ہے۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔“ 

دلیل نمبر:٢ 
عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمه: " قل: لا إله إلا الله، اشهد لك بها يوم القيامة "، قال: لولا ان تعيرني قريش، يقولون: إنما حمله على ذلك الجزع لاقررت بها عينك، فانزل الله إنك لا تهدي من احببت ولكن الله يهدي من يشاء (سورة القصص آية 56)( صحیح مسلم،كِتَاب الْإِيمَانِ:حدیث نمبر:135)
ترجمہ:
  حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے کہا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ دیں ۔ میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا ۔ انہوں نے جواب دیا : اگر مجھے قریش یہ طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے اس بات پر آمادہ کر دیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی : ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (۲۸-القصص : ٥٦) ”یقیناً جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ جسے اللہ چاہے ہدیات عطا فرمادیتا ہے ۔“
دلیل نمبر:٣
حدثنا العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه، قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ما اغنيت عن عمك فإنه كان يحوطك ويغضب لك، قال:" هو في ضحضاح من نار , ولولا انا لكان في الدرك الاسفل من النار". ۔“ 
(صحیح البخاری:بَابُ قِصَّةُ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر : 3883)
ترجمہ:
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ اپنےچچا (ابوطالب)  کے کیا کام آئے کہ وہ آپ کی حمایت کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غصہ ہوتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(اسی وجہ سے) وہ صرف ٹخنوں تک جہنم میں ہیں، اگر میں ان کی سفارش نہ کرتا تو وہ دوزخ کی تہ میں بالکل نیچے ہوتے۔“

 حا فظ سہیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
وظاھر الحديث يقتضي أن عبدالمطلب مات علي الشرك۔
 (الروض الانف ج4، ص19، ط:داراحیاءالتراث العلمی)

ترجمہ:”اس حدیث کے ظاہری الفاظ اس بات کے متقاضى ہیں کہ عبدالمطلب شرک پر فوت ہوئے تھے۔“

حا فظ ابنِ حجر رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : 
فھذا شان من مات علي الكفر، فلو كان مات علي التوحيد لنجا من النار أصلا والاحاديث الصححة والاخبار المتكاثرة طاقحة بذلك
(الاصابة في تميز الصحابة لابن حجر :ج:7، ص:202،ط:دارالکتب العلمیہ)

ترجمہ: یہ صورتحال تو اس شخص کی ہوتی ہے، جو کفر پر فوت ہوا ہو۔ اگر ابوطالب توحید پر فوت ہوتے تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے۔ لیکن بہت سی احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں-“ 

دلیل نمبر:٤
حدثني ابو إسحاق، عن ناجية بن كعب، عن علي عليه السلام، قال: قلت للنبي صلى الله عليه وسلم:" إن عمك الشيخ الضال قد مات، قال: اذهب فوار اباك، ثم لا تحدثن شيئا حتى تاتيني، فذهبت فواريته، وجئته، فامرني، فاغتسلت ودعا لي".
(سنن ابی داود:باب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةُ مُشْرِكٍ: حدیث نمبر:3214 )
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور عرض کیا کہ آپ کے چچا ابوطالب گمراہ کا انتقال ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور اس کو دفن کرو، اسکے بعد کچھ بھی کرنے سے قبل میرے پاس آجاؤ. میں واپس آیا تو آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا، پس میں نے غسل کیا اور میرے لئے دعا فرمائی۔
ان تمام احادیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ابو طالب کا کفر کی حالت میں انتقال ہوا تھا۔
اور جو لوگ ان دلائل کے باوجود بھی ابوطالب کو مسلمان سمجھتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
۔۔۔ يَقُولُهُ الْجُهَّالُ مِنْ الرَّافِضَةِ وَنَحْوِهِمْ مِنْ أَنَّ أَبَا طَالِبٍ آمَنَ وَيَحْتَجُّونَ بِمَا فِي ”السِّيرَةِ“ مِنْ الْحَدِيثِ الضَّعِيفِ وَفِيهِ أَنَّهُ تَكَلَّمَ بِكَلَامِ خَفِيٍّ وَقْتَ الْمَوْتِ. وَلَوْ أَنَّ الْعَبَّاسَ ذَكَرَ أَنَّهُ آمَنَ لَمَا كَانَ ”قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمُّك الشَّيْخُ الضَّالُّ كَانَ يَنْفَعُك فَهَلْ نَفَعْته بِشَيْءِ؟ فَقَالَ : وَجَدْته فِي غَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَشَفَعْت فِيهِ حَتَّى صَارَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ“ ”. هَذَا بَاطِلٌ مُخَالِفٌ لِمَا فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ فَإِنَّهُ كَانَ آخِرَ شَيْءٍ قَالَهُ : هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَنَّ الْعَبَّاسَ لَمْ يَشْهَدْ مَوْتَهُ مَعَ أَنَّ ذَلِكَ لَوْ صَحَّ لَكَانَ أَبُو طَالِبٍ أَحَقّ بِالشُّهْرَةِ مِنْ حَمْزَةَ وَالْعَبَّاسِ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْعِلْمِ الْمُتَوَاتِرِ الْمُسْتَفِيضِ بَيْنَ الْأُمَّةِ خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ أَنَّهُ لَمْ يُذْكَرْ أَبُو طَالِبٍ وَلَا أَبَوَاهُ فِي جُمْلَةِ مَنْ يُذْكَرُ مَنْ أَهْلِهِ الْمُؤْمِنِينَ كَحَمْزَةِ وَالْعَبَّاسِ وَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانَ هَذَا مِنْ أَبْيَنِ الْأَدِلَّةِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَذِبٌ .

ترجمہ: ”رافضی اور ان جیسے دیگر لوگ کہتے ہیں کہ ابوطالب ایمان لے آئے تھے۔ اس سلسلے میں وہ کتب سیرت میں مذکور ایک ضعیف حدیث سے دلیل لیتے ہیں۔ اس کا مضمون یہ ہے کہ ابوطالب نے موت کے وقت ( ایمان کے بارے میں ) مخفی کلام کیا تھا، لیکن اگر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ابوطالب کے ایمان کا ذکر کیا ہوتا تو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات نہ کہتے کہ آپ کا گمراہ چچا ( اپنی زندگی میں ) آپ کو نفع پہنچایا کرتا تھا۔ کیا آپ نے بھی اسے کوئی فائدہ پہنچایا ہے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے انہیں آگ میں غوطے لیتے دیکھا تو ان کی سفارش کی حتیٰ کہ وہ جہنم کے بالائی طبقہ میں آ گئے۔ اب ان کے پاؤں میں آگ کے دو جوتے ہیں، جن کی وجہ سے ان کا دماغ کھول رہا ہے۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوتے۔ 
یعنی یہ بات صحیح بخاری وغیرہ میں مذکورہ قصے کے خلاف ہے۔ ابوطالب نے آخری کلام یہ کیا تھا کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر قائم ہیں۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تو ابوطالب کی موت کے وقت موجود نہ تھے۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے تو ابوطالب کے ایمان کی شہرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے زیادہ ہونی چاہیے تھی۔
سلف سے خلف تک متواتر اور مشہور و معلوم بات ہے کہ ابوطالب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان لانے والے رشتہ داروں میں مثلاً سیدنا حمزہ، سیدنا عباس، سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم میں ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ اس بات کے جھوٹے ہونے پر واضح ترین دلیل ہے۔“ 
(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: ج:2،ص:168،ط:دارالکتب العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
Print Full Screen Views: 200

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.