سوال:
ایک شخص نے کچھ عرصہ قبل 2500 پاکستانی روپے کے بدلے ایرانی کرنسی (تقریباً 1 ملین) خریدی تھی۔ بعد ازاں ایرانی تومان/ریال کی قدر میں اضافہ ہوگیا، یہاں تک کہ وہی 1 ملین اس وقت تقریباً 10,000 روپے کے برابر ہو گئی ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر وہ شخص اس کرنسی کو موجودہ زائد قیمت پر فروخت کر کے نفع حاصل کرے تو کیا یہ نفع شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟ نیز کیا اس طرح کرنسی کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والا منافع سود کے حکم میں تو داخل نہیں ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اس کرنسی کو اس کی موجودہ قیمت پر فروخت کرنا اور اس سے حاصل ہونے والا نفع شرعاً جائز اور حلال ہے، یہ نفع سود کے حکم میں داخل نہیں ہے۔
البتہ مختلف کرنسیوں کی آپس میں خرید و فروخت کے معاملہ میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
(1) دونوں کرنسیوں میں سے کسی ایک پر اسی وقت قبضہ ضرور کر لیا جائے۔
(2) کرنسی کی قیمت بازار میں رائج قیمت سے زیادہ طے نہ کی جائے، ورنہ یہ معاملہ سود کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
(3) اس طرح کا معاملہ کرنے میں ملکی قانون میں کوئی ممانعت نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المبسوط للسرخسي: (كتاب الصرف، 14/ 25، ط: دار المعرفة)
أما عندنا فالفلوس الرائجة بمنزلة الأثمان؛ لاصطلاح الناس على كونها ثمنا للأشياء فإنما يتعلق العقد بالقدر المسمى منها في الذمة، ويكون ثمنا، عين أو لم يعين كما في الدراهم والدنانير، وإن لم يتقابضا حتى افترقا بطل العقد؛ لأنه دين بدين، والدين بالدين لا يكون عقدا بعد الافتراق.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (ص: 171، ط: دار القلم ، دمشق)
ولكن جواز النسيئة في تبادل العملات المختلفة يمكن أن يتخذ حيلة لأكل الربا فمثلا إذا أراد المقرض أن يطالب بعشر ربيات على المائة المقرضة فإنه يبيع مئة ربية نسيئة بمقدار من الدولارات التي تساوي مئة وعشر ربيات وسدا لهذا الباب فإنه ينبغي أن يقيد جواز النسيئة في بيع العملات أن يقع ذلك على سعر سوق السائد عند العقد.
كذا في تبويب فتاوی جامعة دار العلوم كراتشي: رقم الفتوی: (1338/40)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی