سوال:
السلام علیکم، میں دبئی میں ملازمت کرتا ہوں، میرے دوست کو قرض چاہیے اور وہ آٹھ ماہ بعد واپس کرے گا، کیا درہم میں واپس لینا حلال ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر قرض دیتے وقت ہی یہ طے کر لیا جائے کہ روپوں کے بجائے درہم میں رقم واپس کی جائے گی تو یہ معاملہ در حقیقت قرض کا نہیں، بلکہ روپوں کو درہم کے بدلے فروخت کرنے کا معاملہ ہے۔ کرنسی کی ادھار خرید و فروخت کا معاملہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ کرنسی کی بازار میں رائج اسی دن کی قیمت لگائی جائے جس دن معاملہ کیا جارہا ہو، ادائیگی کے دن کی قیمت لگانا جائز نہیں ہے۔ نیز اسی وقت دونوں کرنسیوں میں سے کسی ایک پر قبضہ بھی کر لیا جائے۔
البتہ اگر قرض دیتے وقت ادائیگی درہم میں کرنا طے نہ ہو، بلکہ روپوں کی واپسی اتنے ہی روپوں کی صورت میں دینا طے ہو تو یہ قرض کی صورت ہے، جو کہ جائز ہے، اس کے بعد اگر ادائیگی کے دن باہمی رضامندی سے اس دن اتنے روپوں کے بازاری نرخ کے مطابق درہم میں ادائیگی کی جائے تو اسکی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار (162/5):
استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف وجعله في البزازية وغيرها قول الإمام وعند الثاني عليه قيمتها يوم القبض وعند الثالث قيمتها في آخر يوم زواجها وعليه الفتوى.
فقه البيوع (733/2):
ويجوز فيها النسيئة إن وقعت المبادلة بغير جنسها، مثل أن تباع الدولارات الأمريكية بالربيات الباكستانية بشرط أن تكون المبادلة بسعر يوم المبادلة، حتى لا تكون ذريعة للربا .
کذا فی التبویب لجامعۃ دار العلوم کراچی (1756/38)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی