resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اسلامی بینکاری میں قرض حسنہ کی شرعی حیثیت

(41958-No)

سوال: میں یہ خط نہ ایک بینکار کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں اور نہ ایک کنٹریکٹ انجینئر کی حیثیت سے، بلکہ ایک طالبِ علمِ اسلامی مالیات کے طور پر لکھ رہا ہوں، جس نے شریعت کی روح اور معاصر اسلامی بینکاری کے عملی نظام کے درمیان ایک گہرا خلا محسوس کیا ہے۔
اس خط کے ساتھ آپ کے معزز دارالافتاء کا ایک فتویٰ منسلک ہے، جس میں کمرشل پیپرز کی بروکر کے ذریعے ڈسکاؤنٹنگ کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اس فتویٰ میں درست طور پر ان معاملات کو بیع الدَّین (قرض کی فروخت) اور ربا کی واضح صورت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس کا ایک دو حصوں پر مشتمل متبادل بھی پیش کیا گیا ہے:
وکالۃ بالاجرہ کے بعد ایک علیحدہ قرض کا معاہدہ۔
انتہائی احترام کے ساتھ عرض ہے کہ میں اس متبادل کے بارے میں سوال نہیں کر رہا۔ یہ فنی لحاظ سے درست ہے اور میں اس کی جوازیت پر سوال نہیں اٹھاتا۔ میں ایک بالکل مختلف سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
1۔ تجویز: خالص قرضِ حسن، بغیر کسی شرط اور بغیر کسی اضافی معاہدے کے
اگر ایک اسلامی بینک درج ذیل سہولت فراہم کرے، نہ کہ دو معاہدوں کی ساخت میں، بلکہ ایک واحد، خالص اور غیر مشروط قرضِ حسن کے طور پر: "ہم قبل از وقت کمرشل پیپرز کو برابری (Par) پر ڈسکاؤنٹ کرتے ہیں۔ اپنا قابل وصول قرض ہمارے پاس لائیں اور ہم آپ کو آج ہی مکمل رقم ادا کر دیں گے بغیر کسی کٹوتی، بغیر کسی فیس اور بغیر کسی وکالتی انتظام کے۔" اس معاملے میں بینک کو اس لین دین سے کوئی آمدنی حاصل نہیں ہوگی۔
وہ وقت کے بدلے کوئی رقم وصول نہیں کرے گا، وہ لیکویڈیٹی کے بدلے کوئی کٹوتی نہیں کرے گا، وہ صرف ایک فلاحی قرض دے گا، جس کی واپسی اس وقت ہوگی جب قابل وصول رقم کی میعاد پوری ہوگی۔
محترم شیخ! میرا سوال بہت سادہ ہے:
کیا ایک اسلامی بینک کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کمرشل پیپرز کو برابری (Par) پر ڈسکاؤنٹ کرنے کی سہولت بطور مستقل، اشتہار شدہ، ادارہ جاتی قرضِ حسن کے طور پر فراہم کرے—مکمل طور پر بغیر وکالۃ، بغیر فیس، اور بغیر کسی صریح یا ضمنی فائدے کی شرط کے؟
2۔ وہ خدشہ جسے واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے، مجھے معلوم ہے کہ بعض حضرات سدِّ ذرائع (حرام تک پہنچنے کے راستوں کو بند کرنے) کی بنیاد پر اعتراض کریں گے۔ وہ یہ کہہ سکتے ہیں: بینک اس سہولت کے ذریعے گاہکوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ بینک اپنی ڈپازٹ بیس بڑھانا چاہتا ہے۔ بینک مستقبل میں ان ڈپازٹس سے حلال منافع کمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیا یہ امید، یہ نیت یا یہ مستقبل کا نتیجہ اس قرض کو بعد میں مشکوک بنا دیتا ہے؟
حنفی فقہ میں ہم جانتے ہیں کہ اگر قرض دینے والے کے لیے کوئی فائدہ شرط کے طور پر رکھا جائے تو قرض فاسد ہو جاتا ہے، لیکن اگر کوئی فائدہ شرط کے طور پر نہ رکھا جائے، نہ معاہدے میں، نہ فارم میں، نہ زبانی تو کیا حکم ہوگا؟
اگر فائدہ محض امید کی صورت میں ہو، غیر معاہداتی ہو اور مکمل طور پر مقروض کی صوابدید پر ہوتو کیا قرض اپنی اصل پاکیزگی برقرار رکھ سکتا ہے، چاہے قرض دینے والا ایک بڑا ادارہ ہی کیوں نہ ہو جس کی ایک طویل مدتی حکمت عملی موجود ہو؟
3۔ اس مسئلے کی اہمیت: اسلامی بینکاری میں قرضِ حسن کی عدم موجودگی
محترم شیخ! میں یہ سوال نظری طور پر نہیں اٹھا رہا، پاکستان میں موجود تمام اسلامی بینکوں کی مصنوعات کا جائزہ لینے کے بعد میں ایک بھی ایسا اشتہار شدہ، قابل رسائی ادارہ جاتی قرضِ حسن تلاش نہیں کر سکا جو فوری مالی ضرورت کے لیے دستیاب ہو، ایک بھی نہیں۔
قرضِ حسن کا ذکر سالانہ رپورٹس میں ضرور ملتا ہے، عموماً کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے حصے میں، کبھی کبھار یہ آفات کے متاثرین یا طلبہ کو دیا جاتا ہے، لیکن ایک ٹرانسپورٹر جو آج 100,000 روپے چاہتا ہے اور ساٹھ دن بعد وہی 100,000 روپے واپس کرنے کو تیار ہے، اس کے لیے یہ سہولت موجود نہیں۔
یہ کمی، میرے خیال میں، حادثاتی نہیں بلکہ ساختی (structural) ہے، معاصر اسلامی بینکاری کو روایتی بینکاری کی طرح سوچنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ وہ ہر لین دین کو علیحدہ منافع کے پیمانے سے دیکھتی ہے۔ وہ ہر معاہدے سے فوری منافع چاہتی ہے۔ اس نے ایک ایسی مالی خدمت کا تصور کھو دیا ہے جو بغیر منافع، بغیر فیس، بغیر وکالتی ڈھانچے کے صرف احسان کے طور پر دی جائے۔
حالانکہ، محترم شیخ، کیا یہی وہ چیز نہیں جس کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی؟ کیا قرضِ حسن ایک ایسی سنت نہیں جسے وہ ادارے بھی ترک کر چکے ہیں جو خود کو اسلامی مالیات کے نمائندے کہتے ہیں؟
4۔ معاشی تناظر: شرط نہیں بلکہ ایک امید، میں نہایت وضاحت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں: میں یہ تجویز نہیں دے رہا کہ قرض اس شرط پر دیا جائے کہ مقروض اکاؤنٹ کھولے۔ میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ قرض کو کسی آئندہ لین دین سے جوڑا جائے۔ میں کسی وکالتی انتظام، کسی فیس یا کسی کٹوتی کی تجویز نہیں دے رہا۔ میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا بینک محض خالص اور غیر مشروط قرضِ حسن دے سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی برکت پر اعتماد کر سکتا ہے؟
اگر بینک بہترین خدمات فراہم کرے، گاہکوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اور شریعت کے مطابق مسابقتی مصنوعات پیش کرے، تو ممکن ہے کہ بعض گاہک بعد میں اکاؤنٹ کھولیں۔
ممکن ہے کہ وہ اپنا کاروبار اسی بینک میں لائیں۔
ممکن ہے کہ وہ مستقل گاہک بن جائیں۔
لیکن ان میں سے کوئی چیز شرط کے طور پر طے نہیں ہوگی، نہ وعدہ ہوگی، نہ نافذ کی جا سکے گی۔
کلاسیکی حنفی اصولوں کے مطابق، کیا ایسی امید کو "قرض جر نفعاً" (وہ قرض جو فائدہ کھینچ لائے) کہا جائے گا؟
یا اس کی ممانعت صرف اس وقت ہوگی جب فائدہ شرط کے طور پر ہو، یا عرف میں اس حد تک عام ہو کہ وہ ضمنی شرط بن جائے، یا معاہدے سے وابستہ ہو؟
5۔ کلاسیکی ورثہ: امام ابو حنیفہؒ اور بیع الدَّین کی ممانعت
محترم شیخ! میں اس نتیجے کے قریب پہنچ رہا ہوں کہ حنفی فقہ میں بیع الدَّین کی سخت ممانعت اس ماڈل کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے۔ اگر قرض کو فروخت نہیں کیا جا سکتا، تو برابری (Par) ہی واحد منصفانہ قیمت رہ جاتی ہے۔وقت کے بدلے کٹوتی کرنا ربا ہے۔
اور وقت مفت دینا احسان ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے قرض کی فروخت کو اس لیے منع نہیں کیا کہ وہ تجارتی حقیقتوں سے ناواقف تھے، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ قرض کو رعایت پر فروخت کرنے کی اجازت دینے سے قرض ایک جنس بن جائے گا اور ربا پھیل جائے گا۔
انہوں نے ایک دیوار قائم کی اور ہم ان کے وارث دہائیوں سے اس دیوار میں راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بجائے اس کے کہ یہ تسلیم کریں کہ یہ دیوار ایک حکمت کے تحت قائم کی گئی ہے، اگر قرض کو رعایت پر فروخت نہیں کیا جا سکتا تو واحد باقی راستہ قرضِ حسن ہی رہ جاتا ہے۔ یہ کوئی حیلہ نہیں، بلکہ شریعت کی اصل رحمت ہے۔
6۔ ایک عاجزانہ درخواست
محترم شیخ! میں کسی نئے فنی حل کے لیے فتویٰ نہیں چاہتا۔ میں اس سے کہیں زیادہ اہم چیز چاہتا ہوں: کیا علما ایک واضح اور رہنما بیان جاری کر سکتے ہیں جس میں یہ تصریح ہو کہ کمرشل پیپرز کو برابری (Par) پر بطور خالص اور غیر مشروط قرضِ حسن فراہم کرنا جائز اور قابلِ تحسین ہے۔ بینک کا محض یہ ارادہ یا امید کہ بہترین خدمات کے ذریعے گاہک حاصل ہوں گے جبکہ کوئی شرط موجود نہ ہو، قرض کو سودی نہیں بناتا۔
اسلامی بینکوں کو نہ صرف اجازت ہے بلکہ ترغیب دی جانی چاہیے کہ وہ اس ترک شدہ سنت کو بطور بنیادی ادارہ جاتی سہولت دوبارہ زندہ کریں۔
ایسا بیان نہ صرف فقہی وضاحت فراہم کرے گا بلکہ اسلامی بینکاری کو اس ذہنیت سے آزاد کرے گا کہ ہر لین دین سے فوری منافع ضروری ہے۔
یہ احسان کو اسلامی مالیات کے مرکز میں دوبارہ لے آئے گا۔
اختتام
محترم شیخ! بروکرز 2–5٪ اس لیے لیتے ہیں کیونکہ وہ لے سکتے ہیں۔ بینک برابری (Par) پر ڈسکاؤنٹنگ اس لیے نہیں دیتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں، لیکن اصل سوال امکان کا نہیں بلکہ ہمت کا ہے۔ امت ایک ایسے مالیاتی نظام کی منتظر ہے جو محض سودی بینکاری کو عربی ناموں کے ساتھ نقل نہ کرے، بلکہ حقیقی انصاف فراہم کرے اور اس معاملے میں انصاف کا آغاز ایک سادہ قدم سے ہوتا ہے:
بغیر کٹوتی قرض دینا، وقت مفت دینا اور واپسی کے لیے اللہ پر بھروسہ کرنا۔
میں دعا کرتا ہوں کہ آپ اس معاملے پر غور فرمائیں اور ہمیں اپنی مدلل رائے سے نوازیں۔ اگر علما رہنمائی کریں گے تو بینکر ان کی پیروی کریں گے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: بلا شبہ شریعتِ مطہّرہ کی روشنی میں بغیر کسی عوض اور کسی قسم کے منافع کی شرط کے بغیر خالص قرضِ حسنہ دینا بذات خود ایک جائز، مستحسن اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔
نیز قرض کا معاملہ سود تب بنے گا جب معاہدہ میں ہی (قرض دینے والے کیلیے) کسی منفعت کی شرط لگا لی جائے، عقد میں مشروط یا معروف منفعت کے بغیر قرض کا معاملہ سود میں داخل نہیں ہوگا۔
جہاں تک کسی اسلامی بینک کے ذریعے قرضِ حسنہ دینے کا تعلّق ہے تو یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ بینک ایک منظّم مالیاتی و قانونی ادارہ (financial institution) ہے جو اپنے مخصوص ریگولیٹری، انتظامی اور مالیاتی فریم ورک کے تحت کام کرتا ہے، اس پر شیئر ہولڈرز، ڈیپازٹرز اور دیگر مالی ذمّہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جن کی ادائیگی، حفاظت اور نفع بخش کاموں میں اس کی سرمایہ کاری اس کے نظام کا حصہ ہوتی ہے۔ اسلامی بینک یہ ساری ذمّہ داریاں علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق سر انجام دینے کا پابند ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی ادارہ اپنے قانونی اور انتظامی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے قرضِ حسنہ فراہم کر سکتا ہے تو یہ شرعاً مستحسن عمل ہے‍۔ تاہم یہ (قرض حسنہ) چونکہ شریعت کا کوئی لازمی حکم نہیں ہے، چنانچہ اگر کسی ادارے کے لیے اس پر عمل کرنا انتظامی یا قانونی مجبوریوں کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو محض اس بنا پر اس نظام کو یا قرض حسنہ نہ دینے کے عمل کو خلاف شرع اور ناجائز نہیں کہا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*المعجم الكبير للطبرانی: (رقم الحدیث: 7976، ط. مکتبة الرشيد*)
رأیتُ لیلة أسری بی علی باب الجنة الصدقة بعشر أمثالہا، والقرض بثمانیة عشر، فقلت: یا جبریل، ما بال القرض أفضل من الصدقة؟ قال: لأن السائل یسأل وعندہ، والمستقرض لا یستقرض إلا من حاجة․

*السنن الکبری للبیہقي: (رقم الحدیث: 11092، ط: دار الفکر)*
عن فضالة بن عبید صاحب النبي صلی ﷲ علیه وسلم أنه قال: کل قرض جر منفعة فہو وجع من وجوہ الربا۔

*المبسوط للسرخسی: (36/14، ط.دار المعرفة ،بیروت)*
الإقراض مندوب الیه فی الشرع

*مجلة الأحكام العدلية: (رقم المادۃ: 44- 45)*
المعروف عرفاً کالمشروط شرطاً ای المعروف المعتاد بین الناس وان لم یذکر صریحاً… المعروف بین التجار کالمشروط بینہم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance