سوال:
مفتی صاحب! اگر کوئی شخص ایک بیٹنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کرے اور اس میں 50 مفت اسپنز ملیں جن کے لیے اسے کوئی رقم ادا نہ کرنی پڑے تو کیا اس صورت میں حاصل ہونے والی رقم رکھنا جائز ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مفت اسپنز (free spins)حاصل كرنا بذات خود اگرچہ ناجائز یا حرام نہیں ہے، بشرطیکہ کوئی اور خلاف شرع معاملہ نہ پایا جائے، تاہم بیٹنگ ایپس (Betting Apps) عام طور پر جوئے اور سٹّے کے معاملات پر مشتمل ہوتے ہیں، ان میں داخل ہونے کے بعد ناجائز امورمیں پڑنے کا اندیشہ قوی ہوتا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں اس قسم کی ایپس (apps) سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع: (4/ 192)
ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس.
رد المحتار: (6/ 4)
(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی