عنوان: روزانہ کتنا قرآن پڑھنا چاہئے؟ (103699-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! سنا ہے کہ سال میں کم از کم دو دفعہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا ضروری ہے، کیا اس کی کوئی شرعی دلیل ہے؟

جواب: قران کریم کی تلاوت کی شرعاً کوئی خاص مقدار متعین نہیں ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ آدابِ تلاوت کی رعایت کے ساتھ بآسانی زیادہ سے زیادہ روزانہ جتنا قرآن آسانی پڑھ سکے، پڑھے۔
حضراتِ فقہاء کرام سے قرآن کریم کی تلاوت سے متعلق مختلف اقوال منقول ہیں:
بعض نے کہا کہ روزانہ اتنا پڑھے کہ چالیس روز میں ایک ختم مکمل ہوجائے ، بعض نے سال میں دو مرتبہ ختم کرنے کو بہتر کہا ہے، بعض نے ایک مہینے میں ختم کرنے کی بات کہی ہے۔
امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ جس نے سال میں دو مرتبہ قرآن کریم پڑھا، اس نے قرآن کریم کا حق ادا کردیا، کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی دنیاوی حیات کے آخری سال رمضان المبارک میں جبریل امین کے ساتھ قرآنِ مجید کا دو مرتبہ دور فرمایا تھا۔
یہ بات واضح رہے کہ امام صاحب کے قول " قرآنِ پاک کا حق ادا کردیا " کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کا (اللہ تعالیٰ کے کلام ہونے کی حیثیت سے) اتنا تو حق ہے کہ سال بھر میں اسے کم از کم دو مرتبہ پڑھا جائے اور یہی بات فقیہ ابواللیث نے اپنی کتاب "بستان" میں لکھی ہے کہ اگر زیادہ نہیں پڑھ سکتا ہے تو سال میں کم از کم دو مرتبہ ختم کرے۔(البرھان فی علوم القرآن للزرکشی: ج:1، ص:471)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی الموسوعة الفقھیة:
ﻭاﺧﺘﻠﻒ اﻟﻔﻘﻬﺎء ﻓﻲ ﻋﺪﺩ اﻷﻳﺎﻡ اﻟﺘﻲ ﻳﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﻳﺨﺘﻢ ﻓﻴﻬﺎ اﻟﻘﺮﺁﻥ.
ﺫﻫﺐ اﻟﻤﺎﻟﻜﻴﺔ ﻭاﻟﺤﻨﺎﺑﻠﺔ ﺇﻟﻰ ﺃﻥﻫ ﻳﺴﻦ ﺧﺘﻢ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺃﺳﺒﻮﻉ ﻟﻘﻮﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻌﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ: اﻗﺮﺃﻩ ﻓﻲ ﺳﺒﻊ، ﻭﻻ ﺗﺰﺩ ﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ ﻗﺎﻟﻮا: ﻭﺇﻥ ﻗﺮﺃﻩ ﻓﻲ ﺛﻼﺙ ﻓﺤﺴﻦ، ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻯ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﻠﺖ ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﻥ ﻟﻲ ﻗﻮﺓ، ﻗﺎﻝ: اﻗﺮﺃ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺛﻼﺙ.
ﻟﻜﻦ ﻧﺺ اﻟﻤﺎﻟﻜﻴﺔ ﺑﺃﻥ اﻟﺘﻔﻬﻢ ﻣﻊ ﻗﻠﺔ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﺳﺮﺩ ﺣﺮﻭﻓﻪ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: {ﺃﻓﻼ ﻳﺘﺪﺑﺮﻭﻥ اﻟﻘﺮﺁﻥ}
ﻭﺻﺮﺡ اﻟﺤﻨﺎﺑﻠﺔ ﺑﻜﺮاﻫﺔ ﺗﺄﺧﻴﺮ ﺧﺘﻢ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻮﻕ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﻳﻮﻣﺎ ﺑﻼ ﻋﺬﺭ ﻟﺃﻥﻫ ﻳﻔﻀﻲ ﺇﻟﻰ ﻧﺴﻴﺎﻧﻪ ﻭاﻟﺘﻬﺎﻭﻥ ﻓﻴﻪ، ﻭﺑﺘﺤﺮﻳﻢ ﺗﺄﺧﻴﺮ اﻟﺨﺘﻢ ﻓﻮﻕ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﺇﻥ ﺧﺎﻑ ﻧﺴﻴﺎﻧﻪ .
ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺤﻨﻔﻴﺔ: ﻳﻨﺒﻐﻲ ﻟﺤﺎﻓﻆ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺃﻥ ﻳﺨﺘﻢ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﻳﻮﻣﺎ ﻣﺮﺓ؛ ﻟﺃﻥ اﻟﻤﻘﺼﻮﺩ ﻣﻦ ﻗﺮاءﺓ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻬﻢ ﻣﻌﺎﻧﻴﻪ ﻭاﻻﻋﺘﺒﺎﺭ ﺑﻤﺎ ﻓﻴﻪ ﻻ ﻣﺠﺮﺩ اﻟﺘﻼﻭﺓ. ﻗﺎﻝ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: {ﺃﻓﻼ ﻳﺘﺪﺑﺮﻭﻥ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺃﻡ ﻋﻠﻰ ﻗﻠﻮﺏ ﺃﻗﻔﺎﻟﻬﺎ} ، ﻭﺫﻟﻚ ﻳﺤﺼﻞ ﺑﺎﻟﺖﺃﻥﻳ ﻻ ﺑﺎﻟﺘﻮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﻌﺎﻧﻲ، ﻓﻘﺪﺭ ﻟﻠﺨﺘﻢ ﺃﻗﻠﻪ ﺑﺄﺭﺑﻌﻴﻦ ﻳﻮﻣﺎ، ﻛﻞ ﻳﻮﻡ ﺣﺰﺏ ﻭﻧﺼﻒ ﺃﻭ ﺛﻠﺜﺎ ﺣﺰﺏ، ﻭﻗﻴﻞ: ﻳﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﻳﺨﺘﻢﻫ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﺔ ﻣﺮﺗﻴﻦ، ﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻥﻫ ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ ﻗﺮﺃ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﺔ ﻣﺮﺗﻴﻦ ﻓﻘﺪ ﻗﻀﻰ ﺣﻘﻪ.
ﻭﺻﺮﺡ اﻟﺤﻨﻔﻴﺔ ﺑﺃﻥﻫ ﻻ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﺨﺘﻢ ﻓﻲ ﺃﻗﻞ ﻣﻦ ﺛﻼﺛﺔ ﺃﻳﺎﻡ ، ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻯ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻟﻢ ﻳﻔﻘﻪ ﻣﻦ ﻗﺮﺃ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻲ ﺃﻗﻞ ﻣﻦ ﺛﻼﺙ. ﻗﺎﻝ اﻟﻨﻮﻭﻱ ﺑﻌﺪ ﺃﻥ ﺫﻛﺮ ﺁﺛﺎﺭا ﻋﻦ اﻟﺴﻠﻒ ﻓﻲ ﻣﺪﺓ ﺧﺘﻢ اﻟﻘﺮﺁﻥ: ﻭاﻻﺧﺘﻴﺎﺭ ﺃﻥ ﺫﻟﻚ ﻳﺨﺘﻠﻒ ﺑﺎﺧﺘﻼﻑ اﻷﺷﺨﺎﺹ، ﻓﻤﻦ ﻛﺎﻥ ﻳﻈﻬﺮ ﻟﻪ ﺑﺪﻗﻴﻖ اﻟﻔﻜﺮ ﻟﻄﺎﺋﻒ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﻓﻠﻴﻘﺘﺼﺮ ﻋﻠﻰ ﻗﺪﺭ ﻣﺎ ﻳﺤﺼﻞ ﻟﻪ ﻛﻤﺎﻝ ﻓﻬﻢ ﻣﺎ ﻳﻘﺮﺅﻩ، ﻭﻛﺬا ﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﻣﺸﻐﻮﻻ ﺑﻨﺸﺮ اﻟﻌﻠﻢ ﺃﻭ ﻏﻴﺮﻩ ﻣﻦ ﻣﻬﻤﺎﺕ اﻟﺪﻳﻦ ﻭﻣﺼﺎﻟﺢ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻋﺎﻣﺔ ﻓﻠﻴﻘﺘﺼﺮ ﻋﻠﻰ ﻗﺪﺭ ﻻ ﻳﺤﺼﻞ ﺑﺴﺒﺒﻪ ﺇﺧﻼﻝ ﺑﻤﺎ ﻫﻮ ﻣﺮﺻﺪ ﻟﻪ، ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻣﻦ ﻫﺆﻻء اﻟﻤﺬﻛﻮﺭﻳﻦ ﻓﻠﻴﺴﺘﻜﺜﺮ ﻣﺎ ﺃﻣﻜﻨﻪ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺧﺮﻭﺝ ﺇﻟﻰ ﺣﺪ اﻟﻤﻠﻞ ﻭاﻟﻬﺬﺭﻣﺔ۔(ج:33،ص:59، ط: وزارة الاوقاف۔کویت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 334

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com