resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اسلامی بینک سے گھر (House Financing) کی مد میں پیسے لے کر وہ گھر آگے کرایہ پر دینا

(37698-No)

سوال: اسلامی بینک سے پیسے لے کر گھر لیں اور وہ گھر کرائے پہ دیں، اس کا کرایہ ہم بینک کو قسط کی مد میں واپس دیں اور اس میں کچھ اپنی جیب سے بھی پیسے ملائیں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب: ہماری معلومات کی حد تک اسلامی بینک گھر یا تو اجارہ کی بنیاد پر دیتا ہے یا شرکت متناقصہ (Diminishing Musharakah) کے طور پر دیتا ہے، اور ان دونوں صورتوں میں گاہک ساری قسطیں ادا کرنے سے پہلے اس گھر کا مکمل طور پر مالک نہیں بنتا، نیز بینک کے ساتھ کیے گئے معاہدہ میں بھی عام طور پر اس کی ممانعت ہوتی ہے، لہذا اجارہ کی صورت میں بینک کی اجازت کے بغیر اور شرکت متناقصہ کی صورت میں گھر کے مکمل حصے (Shares) اپنی ملکیت میں آنے سے پہلے اسے آگے کرایہ پر دینا شرعاً درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 1)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ... الخ

رد المحتار: (505/4، ط: دار الفکر)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم

المحيط البرهاني في الفقه النعماني: (7 / 429)
قال محمد رحمه الله: وللمستأجر أن يؤاجر البيت المستأجر من غيره، فالأصل عندنا: أن المستأجر يملك الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment