سوال:
ہم نے مضاربت کا عقد کیا ہے، اس کی شرائط درج ذیل ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ شرائط شرعی طور پر درست ہیں یا نہیں؟
یہ معاہدہ دو فریق (S اور A) کے درمیان طے پایا ہے فریق اول(S)ہے اور فریق دوم (A) ہے، معاہدہ کی شقیں درج ذیل ہیں:
(1) فریق اول (S) بیس لاکھ روپے مہیا کرے گا، فی الحال اٹھارہ لاکھ روپے دے چکا ہے جبکہ فریق دوم (A) کاروباری ذمہ داری سنبھالیں گے، کاروبار کے دوران فریق دوم (A) کو حسب صوابدید اختیارات حاصل ہوں گے۔
(2) فریق اول (S) کو چھ سال سے پہلے عقد (کاروبار) ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے جبکہ فریق دوم (A) کو کسی بھی وقت عقد (کاروبار) ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
(3) اس معاہدہ اور کاروبار کا تعلق صرف اور صرف فریقین (S اور A)کے ساتھ ہے، ان کے کسی بھی بھائی یا رشتہ دار کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوگی۔
(4) دوران کاروبار فریق دوم (A) کو پلمبری کے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
(5)حساب وکتاب سالانہ بنیاد پر ہوگا نیز نفع پچاس فیصد (S) کو ملے گا اور پچاس فیصد (A) کو ملے گا۔
(6) کاروبار کے دوران جتنے قرضے دیے جائیں گے وہ چونکہ کاروبار ہی کے مفاد میں ہوتے ہیں، اس لیے کاروبار کے اختتام پر ایسے تمام واجب الادا قرضوں کی وصولی کی ذمہ داری یا بصورت دیگر نقصان دونوں فریق (S) اور (A) کے ذمہ برابر برابر ہوگی۔
(6) فریق دوم کو کاروبار کے دوران کھانے پینے، موبائل کے اخراجات اور پیٹرول کا خرچہ مال مضاربت سے ادا کیا جائے گا، یہ اخراجات ان کے نفع سے منہا نہیں ہوں گے۔
(7) فریق دوم (A) کو اجازت ہوگی کہ وہ اگر چاہے تو اپنی طرف سے مال مضاربت میں اپنا ذاتی مال شامل کرسکے گا۔
جواب: (1-6) فریقین کا باہمی رضامندی سے مضاربہ کا مذکورہ بالا معاملہ کرنا شرعاً درست ہے، تاہم واضح رہے کہ مضاربہ میں نقصان ہونے کی صورت میں (اگر کاروبار میں پہلے نفع ہوا ہو تو) حاصل شدہ نفع سے نقصان کی تلافی کی جائے گی، یہاں تک کہ رأس المال (اصل سرمایہ) کی مقدار پوری کرلی جائے، اگر رأس المال کی مقدار پوری ہونے کے بعد بھی نقصان پورا نہ ہو تو اب مزید نقصان کی تلافی اصل سرمایہ سے کی جائے گی، مضارب اس نقصان میں شریک نہ ہوگا، لہذا (شق نمبر: 6 کے تحت) واجب الاداء قرضوں کی وصولی میں نقصان کی صورت میں مضارب پر اس کا تاوان ڈالنا شرعاً درست نہیں ہے، بشرطیکہ مضارب (کام کرنے والے) کی طرف سے کوئی غفلت یا کمی کوتاہی نہ ہو، اگر اس کی طرف سے کام میں کمی کوتاہی، غفلت یا خیانت کی وجہ سے نقصان ہوجائے تو پھر وہ (مضارب) نقصان کا ذمّہ دار ہوگا۔
7) ربّ المال کی اجازت سے مضارب کا اپنا مال ربّ المال کے مال میں کاروبار کے لیے شامل کرنا جائز ہے۔ایسی صورت میں مضارب کی دو حیثیتیں ہوں گی، ایک حیثیت مضارب ہونے کی، اور دوسری شریک کی۔ ایسی صورت میں مضارب ان دونوں حیثیتوں سے نفع میں شریک ہوگا، مضارب ہونے کی حیثیت میں نفع کی کوئی بھی شرح باہمی رضامندی سے طے کی جا سکتی ہے، البتہ شریک ہونے کی حیثیت سے وہ اپنے لگائے ہوئے سرمائے کے تناسب سے یا اس سے کم نفع لے سکتا ہے، لیکن سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نفع مقرّر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ زیادہ نفع شریک کو محنت کی بنیاد پر ملتا ہے، جبکہ اس صورت میں محنت کا نفع مضارب ہونے کی حیثیت سے اسے پہلے ہی مل رہا ہے۔
نیز نقصان کی صورت میں وہ اپنے لگائے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا کیونکہ سرمایہ میں اس کی حیثیت شریک کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (459/3، ط: دار الجيل)
(المادة 1428) (يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط) . يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط. انظر المادة (83) أي يكون الشرط المذكور لغوا فلا يفسد المضاربة (الدرر) ؛ لأن هذا الشرط زائد فلا يوجب الجهالة في الربح أو قطع الشركة فلا تفسد المضاربة به حيث إن الشروط الفاسدة لا تفسد المضاربة.
و فيها أیضاً: (452/3، ط: دار الجیل)
المادة (1421): (إذا خرج المضارب عن مأذونيته وخالف الشرط يكون غاصبا وفي هذا الحال يعود الربح والخسارة في بيع وشراء المضارب عليه، وإذا تلف مال المضاربة يكون ضامنا) إذا خرج المضارب عن الإذن الذي أعطي له وخالف القيد والشرط المفيد كما بين في المادة الآنفة فيكون قد تعدى على مال الغير، فإذا كانت المخالفة في كل المال فيعد غاصبا لكل المال وإذا كانت المخالفة في بعضه فيعد غاصبا لبعضه….. وفي هذا الحال أي في حال المخالفة والغصب يعود الربح والخسار في بيع وشراء المضارب عليه أي على المضارب، مثلا لو قيد رب المال المضاربة بنوع تجارة فاشتغل المضارب بنوع تجارة أخرى فيكون ربح وخسار المال الذي اشتراه عائدا عليه أما عند الطرفين فلا يطيب له الربح (الدر المنتقى) ويضمن رأس المال كذلك ……إذا نهى رب المال المضارب بقوله له: لا تذهب إلى المحل الفلاني فخالفه المضارب وذهب إلى ذلك المحل وتلف مال المضاربة يضمن المضارب؛ لأنه أصبح غاصبا في مخالفة أمر رب المال.
مختصر القدوری: (114/1 ط: دار الکتب العلمیة)
وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال فإن زاد الهالك على الربح فلا ضمان على المضارب فيه۔
بدائع الصنائع: (98/6)
وأما) القسم الذي للمضارب أن يعمله إذا قيل له: اعمل برأيك وإن لم ينص عليه، فالمضاربة والشركة والخلط، فله أن يدفع مال المضاربة مضاربة إلى غيره، وأن يشارك غيره في مال المضاربة شركة عنان، وأن يخلط مال المضاربة بمال نفسه، إذا قال له رب المال: اعمل برأيك وليس له أن يعمل شيئا من ذلك، إذا لم يقل له ذلك أما المضاربة فلأن المضاربة مثل المضاربة.....
وكذا له أن يخلط مال المضاربة بمال نفسه؛ لأنه فوض الرأي إليه، وقد رأى الخلط وإذا ربح قسم الربح على المالين، فربح ماله يكون له خاصة، وربح مال المضاربة يكون بينهما على الشرط
المعايير الشرعية:.(1/ 141، المادة : 1417 )
إذا خلط المضارب مال المضاربة بماله، فإنه يصير شريكا بماله ومضاربا بمال الآخر ويقسم الربح الحأصل على المالين *فيأخذ المضارب ربح ماله،* ويقسم ربح مال المضاربة بينه وبين رب المال على الوجه الذي شرطاه.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام: (3 / 475)
إذا خلط المضارب مال المضاربة بماله حسب المادة الآنفة بناء على التفويض أو الإذن الصريح من رب المال فيقسم الربح الحاصل على مقدار رأسي المال أي أنه يأخذ ربح رأس ماله خاصة ; لأنه ربح ماله ويقسم ربح مال المضاربة بينه وبين رب المال على الوجه الذي شرطاه ( التتارخانية في الفصل الثاني ) مثلا لو أعطى رب المال خمسين دينارا مضاربة لآخر بنصف الربح وخلط المضارب على الوجه المبين في هذه المادة مال المضاربة المذكور بمائة دينار له وربح ثلاثين فتكون عشرون دينارا ربح رأس ماله وتكون للمضارب خاصة وتكون العشرة دنانير الباقية ربح مال المضاربة فيقتسمها مع رب المال مناصفة
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی