resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اے ایس گروپ آف کمپنیز (AS Group of companies) میں سرمایہ کاری کرنا

(37714-No)

سوال: ہمارے ہاں ایک گروپ آف کمپنیز (AS Group of Companies ) ہے جو 2019 سے لوگوں کو ان کے کیپٹل پر 4٪ سے 4.5٪ ماہانہ منافع جو فکس نہیں ہے، نفع نقصان کی برابر تقسیم کی بنیادی شکل میں آفر کرتا ہے۔ اس گروپ میں سافٹ وئیر ڈیویلپمینٹ، ہوٹل سروسز، کنسٹرکشن ڈیولپمنٹ، آن لائن گیمز( جن کے پلیئرز کو ماہانہ سیلری دی جاتی ہے)، سولر پینل امپورٹ، فارمیسی شاپس، کرپٹو ٹریڈنگ، کار رینٹل اینڈ سیل جیسی کمپنیز ہیں، جن میں کمپنی کی طرف سے کلائنٹ کی رقم لگائی جاتی ہے۔
گروپ کے بقول وہ کلائنٹ کا کیپیٹل انویسٹ کرتا ہے اور جو منافع حاصل ہوتا ہے وہ ہفتہ کے 5 دنوں (ہفتہ اتوار اور سرکاری اور بنک چھٹی والے دن کا منافع کلائنٹ کے ساتھ شئیر نہیں کیا جاتا) کے حساب سے کلائنٹ کے ساتھ شئیر کیا جاتا ہے جو کلائنٹ 30 دن بعد ود ڈرا کر سکتا ہے۔ کلائنٹ اپنا انویسٹمنٹ 6 مہینے بعد واپس لے سکتا ہے جو درخواست کے 30 دن مل جاتا ہے، منافع درخواست کے 7-10 میں مل جاتا ہے، کسی اور کے ریفرنس پر بھی کچھ پیسے ملتے ہیں۔ کیا یہ منافع جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ کسی کمپنی کی محض سرسری معلومات کی بنیاد پر اس کے مکمل کاروبار کے جائز یا ناجائز ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، جب تک اس کمپنی کی مکمل تفصیلات مثلاََ: کاروبار کی نوعیت، مکمل کاروبار کا عملی طریقہ کار٬ کمپنی کی قانونی حیثیت اور اس کے تمام پراجیکٹس کی تفصیلات وغیرہ سامنے نہ ہوں، اس وقت تک کمپنی سے متعلّق کوئی شرعی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔
سوال میں ذکر کردہ کمپنی کا اگر بنیادی کاروبار حلال ہو (جیساکہ سوال میں ذکر ہے)، اور قانونی طور پر اسے عوام سے پیسے لینے کی اجازت ہو، نیز وہ کمپنی مستند علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہو تو اس میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔
تاہم بہتر یہ ہے کہ آپ اس سلسلے میں متعلّقہ کمپنی سے رابطہ کرکے ان سے معلومات لے لیں کہ اگر وہ شرعی اصولوں کے مطابق مستند علماء کرام کی زیر نگرانی کام کر رہے ہوں٬ اور قانونی طور پر انہوں نے لوگوں سے سرمایہ لینے کی اجازت حاصل کرلی ہو تو ایسی صورت میں اس کمپنی کے ساتھ سرمایہ کاری (Investment) کی جاسکتی ہے۔
اس سلسلہ میں جامعۃ الرشید کا درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
https://almuftionline.com/2024/02/06/12295/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذي: (باب ما ذکر عن النبي صلی اﷲ علیه و سلم في الصلح بین الناس، رقم الحدیث: 1352)
....والمسلمون علی شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما۔

تکملة فتح الملهم: (323/3، ط: أشرفیه)
ان المسلم یجب علیه أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة؛ فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرته، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابه؛ لأن اللہ سبحانه وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]، فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة الله ورسوله، فلما أفردھم الله سبحانه بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial