سوال:
میں راولپنڈی سے تعلق رکھتی ہوں اور میں نے کوئٹہ میں QIMS میں داخلہ لیا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک لڑکی کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ اکیلے کوئٹہ جائے، اکیلے واپس آئے اور وہاں ہاسٹل میں رہائش اختیار کرے؟
جواب: شرعی اصول کے مطابق جب سفر مسافتِ سفر (تقریباً 77.24 کلومیٹر یا اس سے زیادہ) ہو تو عورت کے لیے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں ہوتا۔ چونکہ راولپنڈی سے کوئٹہ کا فاصلہ اس مقدار سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے اس طویل سفر میں اکیلے جانا یا واپس آنا ممنوع ہے، جیسا کہ حدیثِ مبارک میں اس کی صراحت موجود ہے۔ حضور ﷺ نےفرمایا: "کوئی عورت تین روز (یعنی شرعی مسافت) سے زیادہ سفر نہ کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا محرم ہو۔ (الصحیح لمسلم: حدیث نمبر:1338)
دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے۔" (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3006)
خواتین کے لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے ہی شہر کی کسی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کریں، تاکہ روزانہ گھر آنا جانا ممکن ہو اور ہاسٹل میں قیام کی ضرورت پیش نہ آئے۔
تاہم اگر کسی معقول ضرورت کے تحت دوسرے شہر جانا ناگزیر ہو، اور ہاسٹل کا ماحول محفوظ، بااعتماد اور شرعی حدود (جیسے پردہ وغیرہ) کے مطابق ہو، نیز طالبہ دورانِ تعلیم غیر محرم مردوں کے ساتھ بلا ضرورت گفتگو، ہنسی مذاق اور تنہائی سے اجتناب کرے تو ایسی صورت میں تعلیم کی غرض سے بقدرِ ضرورت ہاسٹل میں رہائش اختیار کرنا اپنی ذات کے اعتبارسے جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1338، 975/2، ط: دار إحياء التراث العربي)
عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم.
صحیح البخاری: (كتاب الجهاد والسير، باب من اكتتب فى جيش فخرجت امرأته حاجة، وكان له عذر، هل يؤذن له، رقم الحدیث: 3006، ط: دار طوق النجاة)
عن ابن عباس رضي الله عنهما، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا يخلون رجل بامراة، ولا تسافرن امراة إلا ومعها محرم، فقام: رجل، فقال: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا، وخرجت امراتي حاجة، قال: اذهب فحج مع امراتك".
الدر المختارمع رد المحتار:(مقدمۃ، 42/1، 43، ط: سعید)
واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه. وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره، ومندوبا، وهو التبحر في الفقه وعلم القلب. وحراما، وهو علم الفلسفة الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله الفلسفة) هو لفظ يوناني (إلی قولہ) وذكر في الإحياء أنها ليست علما برأسها بل هي أربعة أجزاء:أحدها: الهندسة والحساب، وهما مباحان، ولا يمنع منهما إلا من يخاف عليه أن يتجاوزهما إلى علوم مذمومة الخ (مقدمۃ ج1 ص 43-42 ط: سعید)
الفتاوی الھندیة: (کتاب الکراھیة، الباب الثلاثون، 377/5، ط: ماجدیة)
طلب العلم فریضۃ بقدر الشرائع وما یحتاج إلیہ (إلی قولہ) فإن تعلمھا فھو أفضل الخ
البحر الرائق: (کتاب الصلاۃ، 285/1، ط: دار الکتب العلمیة)
(قوله: وبني عليه أن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي إلخ) قال في النهر فيه تدافع (إلی قولہ) فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اه
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی