resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مخلوط آمدنی (حلال و حرام) والے پڑوسی کے گھر سے کھانا کھانے اور ان کی سہولیات (وائی فائی وغیرہ) استعمال کرنے کا شرعی حکم

(37720-No)

سوال: میرا ایک پڑوسی ہے، ان کے تین بیٹے ہیں، ان میں سے دو بیٹوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کماتے ہیں اور والد بھی کماتے ہیں، اسی مجموعی آمدنی سے ان کا گھر چلتا ہے۔
ان کے ایک بیٹے کی ملازمت سودی بینک میں ہے، اور اس کی آمدنی تقریباً 50 ہزار روپے ماہانہ ہے، جو کہ شرعاً حرام ہے۔ دوسرا بیٹا بیرونِ ملک ہے، ایک دفعہ اس کی والدہ نے بتایا کہ اس نے ایک مہینے میں تقریباً 30 ہزار روپے گھر بھیجے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ ہر ماہ کتنی رقم بھیجتا ہے۔ والد بھی کماتے ہیں، مگر ان کی آمدنی کی مقدار معلوم نہیں ہے۔
اب درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
اگر ان کے گھر سے ہمارے پاس کھانا آئے اور ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس کی کمائی سے تیار ہوا ہے تو کیا ایسا کھانا ہمارے لیے کھانا جائز ہے؟
اگر ہمیں بعد میں پتا لگے کہ یہ کھانا حرام کمائی سے پکا ہوا ہے تو کیا ہم ان سے کھانا لے لیں اور پھر نہ کھائیں؟ کیا اس طرح کرنا درست ہے؟
ایک ضروری بات یہ ہے کہ میں ان کے گھر کا وائی فائی ان کی اجازت سے استعمال کرتا ہوں۔ ایک مرتبہ سودی بینک میں کام کرنے والے بیٹے نے کہا تھا کہ “میں سوچ رہا ہوں یہ انٹرنیٹ ٹھیک نہیں، میں نیا انٹرنیٹ لگوا لوں”، یعنی اس نے اس انٹرنیٹ کی نسبت اپنی طرف کی۔ اس سے شک ہوتا ہے کہ شاید وہی اس کا بل دیتا ہو، لیکن یہ بات یقینی نہیں۔ اسی طرح ایک گمان یہ بھی ہے کہ جو بیٹا بیرونِ ملک ہے، ممکن ہے وہ اس کا خرچ دیتا ہو، لیکن یہ بھی کنفرم نہیں ہے تو کیا ایسی صورت میں، جب یقینی طور پر معلوم نہ ہو بلکہ صرف گمان ہو کہ انٹرنیٹ کا بل حرام کمائی سے ادا ہو رہا ہے، میرے لیے اس وائی فائی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اگر بعد میں مجھے یہ کنفرم ہو جائے کہ سودی بینک میں کام کرنے والا بیٹا ہی اس انٹرنیٹ کا بل ادا کرتا ہے تو کیا میں پھر بھی اس انٹرنیٹ کو استعمال کر سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب: 1) جس گھر میں حلال اور حرام دونوں قسم کی آمدنی شامل ہو، اس بارے میں اصول یہ ہے کہ جب تک حرام مال کا غلبہ یقینی طور پر ثابت نہ ہو، اس وقت تک اس گھر کا کھانا کھانا جائز رہتا ہے؛ آپ کے بیان کے مطابق ایک بیٹے کی آمدنی حرام ہے لیکن دیگر افراد (والد اور دوسرا بیٹا) بھی کماتے ہیں اور ان کی آمدنی کی مقدار متعیّن نہیں، لہٰذا محض احتمال کی بنیاد پر پورے گھر کے کھانے کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ حرام آمدنی غالب ہے، اس وقت تک ان کے گھر سے آنے والا کھانا کھانا شرعاً جائز ہے۔
ہاں! اگر کسی خاص کھانے کے بارے میں بعد میں یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ خالص حرام کمائی سے تیار کیا گیا تھا تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ ظاہری تعلّقات اور حسنِ سلوک کی خاطر اسے واپس تو نہ کیا جائے ،البتہ خود بھی استعمال نہ کیا جائے بلکہ کسی مستحق کو دے دیا جائے، کیونکہ کھانے کو واپس کرنا یا انکار کرنا بعض اوقات دل آزاری اور تعلّقات میں خرابی کا سبب بنتا ہے، اور اگر استعمال کیا جا چکا ہو تو توبہ و استغفار کی جائے اور آئندہ احتیاط کی جائے۔

2) جب تک یہ صرف گمان اور شک ہو کہ انٹرنیٹ کا خرچ حرام کمائی سے ادا ہو رہا ہے، اس وقت تک اس کا استعمال جائز ہے، کیونکہ شرعی قاعدہ یہ ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے اور محض شک سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی، لہٰذا صرف اس بات سے کہ کسی نے اپنی طرف نسبت کی ہو، یقینی حکم ثابت نہیں ہوتا اور آپ بلا حرج اس وائی فائی کو استعمال کر سکتے ہیں۔
ہاں! اگر بعد میں یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ انٹرنیٹ کا بل مکمل طور پر اسی بیٹے کی حرام کمائی سے ادا ہو رہا ہے تو پھر اس سہولت سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ خالص حرام مال سے فراہم کردہ منفعت سے انتفاع (فائدہ حاصل) کرنا شرعاً درست نہیں، لہٰذا ایسی صورت میں اس کا استعمال ترک کرنا ضروری ہوگا۔
خلاصہ:
جب تک حرام آمدنی کا غلبہ یا کسی خاص چیز کے خالص حرام ہونے کا یقین نہ ہو، اس وقت تک کھانا کھانا اور وائی فائی استعمال کرنا جائز ہے، البتہ یقین ہو جانے کی صورت میں احتیاط لازم ہے اور دینداری کا تقاضا یہی ہے کہ مشتبہ امور سے حتیٰ الامکان بچا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل

*الھندیة: (باب الهدايا والضيافات، 149/9، ط: رشیدیة)*
ﺃﻫﺪﻯ ﺇﻟﻰ ﺭﺟﻞ ﺷﻴﺌﺎ ﺃﻭ ﺃﺿﺎﻓﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻏﺎﻟﺐ ﻣﺎﻟﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﻼﻝ ﻓﻼ ﺑﺄﺱ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﻌﻠﻢ ﺑﺄﻧﻪ ﺣﺮاﻡ، ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻥ اﻝﻏﺎﻟﺐ ﻫﻮ اﻟﺤﺮاﻡ ﻳﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻘﺒﻞ اﻟﻬﺪﻳﺔ، ﻭﻻ ﻳﺄﻛﻞ اﻟﻄﻌﺎﻡ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﺨﺒﺮﻩ ﺑﺄﻧﻪ ﺣﻼﻝ ﻭﺭﺛﺘﻪ ﺃﻭ اﺳﺘﻘﺮﺿﺘﻪ ﻣﻦ ﺭﺟﻞ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻴﻨﺎﺑﻴﻊ.

*غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر: (1/ 223 دار الكتب العلمية)*
(91) قوله: الأصل في الأشياء الإباحة إلخ ذكر العلامة قاسم بن قطلوبغا في بعض تعاليقه أن المختار أن الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا، وقيده فخر الإسلام بزمن الفترة فقال: إن الناس لن يتركوا سدى في شيء من الأزمان، وإنما هذا بناء على زمن الفترة لاختلاف الشرائع ووقوع التحريفات، فلم يبق الاعتقاد، والوثوق على شيء من الشرائع فظهرت الإباحة بمعنى عدم العقاب، بما لم يوجد له محرم ولا مبيح انتهى

*الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 47 دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)*
القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ودليلها ما رواه مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعا {إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا، أو يجد ريحا}

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals