سوال:
میرے والد صاحب نے سعودی عرب میں ملازمت کی تھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ایک خطیر رقم یکمشت ملی۔ اب وہ اس رقم کو کسی سیونگ اسکیم میں لگانا چاہتے ہیں، خاص طور پر بہبود سیونگ اسکیم میں، تاکہ گھر کے راشن اور بنیادی ضروریات کے لیے تقریباً 40,000 سے 50,000 روپے ماہانہ آمدنی حاصل ہو سکے، کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ انہیں نہ کوئی پنشن ملتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی مالی معاونت حاصل ہے۔
میرے بڑے بھائی بے روزگار ہیں اور میں خود بھی اس وقت بے روزگار ہوں۔ اگرچہ میرا ایک سرکاری نوکری کے لیے انتخاب ہو چکا ہے، لیکن ابھی تقرری کا لیٹر موصول نہیں ہوا، اور متوقع آمدنی بھی خاصی کم ہے۔
ان حالات میں کیا میرے والد صاحب کے لیے بہبود سیونگ اسکیم میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ چونکہ قرض کی رقم پر نفع حاصل کرنے کی ایک صورت ہے، جوکہ سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
البتہ اگر نیشنل سیونگ مستند علماء کی زیر نگرانی یہ پراڈکٹ قرض کی بجائے کسی شرعی اصول (Islamic Mode of finance) کے مطابق دے رہا ہو تو اس صورت میں اس سے نفع حاصل کرنے کی گنجائش ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 275)
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا...الخ
اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی