عنوان: ستائیس رجب کی عبادت سے متعلق حدیث کی تحقیق(103869-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کیا یہ حدیث درست ہے؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اس (یعنی ستائیسویں رجب کی) رات عمل کرنے والے کے لیے سو سال کی نیکیوں کا ثواب ہے۔ جو اس رات بارہ رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھے اور سلام کے بعد سو مرتبہ یہ کہے: سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر، پھر سو دفعہ مجھ پر درود پاک پڑھے اور دنیا و آخرت کے معاملات میں سے اپنے لیے جو چاہے دعا کرے اور صبح کو روزہ رکھے، تو اللہ پاک سوائے گناہ کی دعا کے اس کی تمام دعائیں قبول فرمائیں گے۔ (شعب الایمان: ج،٣، ص، ٣٧۴، حدیث نمبر، ٣٨١٢)

جواب: ماہِ رجب کے فضائل سے متعلق احادیث کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ”تبیین العجب بما ورد في فضل رجب“کے نام سے مستقل کتاب لکھی ہے،جس میں انہوں نے رجب سے متعلق پائی جانے والی تمام ضعیف اور موضوع(من گھڑت ) روایات پر محدثانہ کلام کرتے ہوئے سب کو باطل کردیا ہے، جس میں
علامہ ابن حجر لکھتے ہیں:
لم یرد فی فضل شھر رجب ، ولا فی صیامہ ، ولا فی صیام شئی منہ معین ، ولا فی قیام لیلۃ مخصوصة فیہ حدیث صحیح یصلح للحجة و قد سبقنی الی الجزم بذلک الامام ابو اسمٰعیل الھروی الحافظ ، رویناہ عنہ باسناد صحیح ، و کذلک رویناہ عن غیرہ ۔ (تبیین العجب ،ص: 24،ط:موسسة القرطبة)
ترجمه :
رجب کے مہینے کی فضیلت کے حوالے سےکوئی صحیح روایت وارد نہیں ہوئی اور نہ ہی رجب کے روزوں کے بارے میں ، اور اسے مخصوص روزوں اور قیام کے بارے میں کوئی بھی صحیح روایت وارد نہیں ہے، جو حجت کے قابل ہو اور مجھ سے پہلے یہی بات امام ابو اسمعیل  نے کہی ہے، جسے ہم نے سند صحیح کے ساتھ بیان کیا ہے۔
آگے ص: 33 پر لکھتے ہیں: الأحاديث الواردة في فضل رجب أو فضل صيامه أو صيام شيء منه صريحة، فهي على قسمين ضعيفة وموضوعة.نحن نسوق الضعيفة و نشیر إلى الموضوعة إشارة مفهمة.
ترجمہ:
احادیث جو ماہ رجب کی فضیلت کے سلسلہ میں ہیں، یا اس کے روزوں کی، یا اس کے چند دن کی فضیلت کے بارے میں صراحت کے ساتھ آئی ہیں، تو اس کی دو قسمیں ہیں: ضعیف اور موضوع(من گھڑت )، ہم ضعیف حدیثوں کو بیان کریں گے اور موضوع (من گھڑت )احادیث کی طرف واضح اشارہ بھی کریں گے۔

اور اسی طرح امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے :
’’لم يرد في رجب على الخصوص سنة صحيحية ولا حسنة ولا ضعيفة ضعفا خفيفا بل جميع ما روى فيه على الخصوص أما موضوع مكذوب أو ضعيف شديد الضعف 
ترجمہ:
’’خاص طور پر ماہ رجب کے متعلق کوئی صحیح حسن یا کم درجے کی ضعیف سنت وارد نہیں بلکہ اس سلسلے میں وارد تمام روایات یا تو من گھڑت اورجھوٹی ہیں یا شدید ضعیف ہیں ۔ ‘‘
(السيل الجرار المتدفق على حدائق الأزهار، ص:297، ط:دار ابن حزم )

سوال میں ذکر کردہ روایت

سوال میں ذکر کردہ روایت کو امام بیھقی نے شعب الایمان(ج:5، ص: 346،ط:مكتبة الرشد، رياض)، فضائل الأوقات (ص:97، ط: مكتبة المنارة، مكة المكرمة)
اور علامہ ابن عساکر نے فضل رجب(،ص:315،ط:مؤسسة الريان، بيروت) میں نقل کیا ہے۔

أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ، أخبرنا أبو صالح خلف بن محمد ببخارى، أخبرنا مكي بن خلف، وإسحاق بن أحمد، قالا: حدثنا نصر بن الحسين، أخبرنا عيسى وهو الغنجار، عن محمد بن الفضل، عن أبان، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قال: " في رجب ليلة يكتب للعامل فيها حسنات مائة سنة، وذلك لثلاث بقين من رجب، فمن صلى فيها اثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة من القرآن يتشهد في كل ركعتين، ويسلم في آخرهن، ثم يقول: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر مائة مرة، ويستغفر الله مائة مرة، ويصلي على النبي صلى الله عليه وسلم مائة مرة، ويدعو لنفسه ما شاء من أمر دنياه وآخرته، ويصبح صائما فإن الله يستجيب دعاءه كله إلا أن يدعو في معصية "
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب کی ستائیسویں رات میں عبادت کرنے والوں کو 100 سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ جو شخص ستائیسویں رجب المرجب کی رات بارہ رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہررکعت میں سورة فاتحہ پڑھ کر قرآن کریم کی کوئی سورة پڑھے اور دورکعت پر تشہد (التحیات للّٰہ) آخرتک پڑھ کر (بعددرود) سلام پھیرے اور بارہ کعت پڑھنے کے بعد 100 مرتبہ یہ تسبیح پڑھے: سُبحَانَ اللّٰہِ وَالحَمدُلِلَّہِ وَلَا ٓاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکبَرُ پھر 100 مرتبہ اَستَغفِرُاللّٰہَ اور100مرتبہ درودشریف پڑھے تو دنیا وآخرت کے امور کے متعلق جو چاہے دعاکرے اور صبح میں روزہ رکھے تو یقینا اللہ تعالیٰ اسکی تمام دعائیں قبول فرمائے گا، مگر یہ کہ وہ کوئی ایسی دعانہ کرے جو گناہ میں شمارہوتی ہو کیونکہ ایسی دعا قبول نہ ہوگی۔

مذکورہ بالا روایت کی سند:
اس کی سند میں محمد بن فضل راوی ہے ،جس کی ائمہ نے تکذیب کی ہے ۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الجرح والتعدیل :8/56 ، الضعفاء :4/120 ، الکامل :6/170،المیزان :6/4 ،تقریب التہذیب :2/208]

خلاصہ کلام:
مذکورہ بالا روایت کی سند میں محدثین نے سخت کلام کیا ہے،  ابن حجرؒ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں :
اسنادہ مظلم ۔(تبیین العجب : 64،ط:موسسة القرطبة)
اس روایت کی سندتاریک ہے ،یعنی رواة کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند نہایت تاریک ہے اور علامہ عبدالحی لکھنوی نے بھی اس روایت پر موضوع(من گھڑت ) کا حکم لگایا ہے۔
اس لیے اس روایت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما في تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة لابن عرق:

[حديث] من صلى ليلة سبعة وعشرين من رجب اثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة منها بفاتحة الكتاب وسورة، فإذا فرغ من صلاته قرأ فاتحة الكتاب سبع مرات وهو جالس، ثم يقول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم أربع مرات، ثم أصبح صائما حط الله عنه ذنوبه ستين سنة، وهي الليلة التي بعث فيها محمد (قلت) هذا الحديث ذكره الحافظ ابن حجر في كتابه تبيين العجب، وعزاه إلى موضوعات ابن الجوزي، وأورده بسنده من حديث ابن عباس، ولم يذكره السيوطي ولا الذهبي في تلخيصه، ولا السيوطي في اللآلئ ولا هو في النسخة التي عندي من الموضوعات، فكأنه في بعض النسخ دون بعض، قال الحافظ ابن حجر وروينا من حديث أنس مرفوعا: في رجب ليلة يكتب للعامل فيها حسنات مائة سنة، وذلك لثلاث بقين من رجب، فمن صلى فيها اثني عشر ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة من القرآن، يتشهد في كل ركعتين ويسلم في آخرهن، ثم يقول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر مائة مرة، ويستغفر مائة مرة ويصلي على النبي مائة مرة، ويدعو لنفسه بما شاء من أمر دنياه وآخرته، ويصبح صائما فإن الله يستجيب دعاءه كله، إلا أن يدعو في معصية، رواه البيهقي وفيه متهمان محمد بن الفضل بن عطية وأبان بن أبي عياش (ج؛2 ،ص:90، ط:دارالکتب العلمیة )

فی الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة : 
حديث في رجب ليلة يكتب للعامل فيها حسنات مائة سنة وذلك لثلاث بقين من رجب فمن صلى فيه اثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة
الكتاب وسورة ويتشهد في كل ركعتين ويسلم في آخرهن، ثم يقول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر مائة مرة ويستغفر مائة مرة ويصلي على النبي مائة مرة ويدعو لنفسه ما شاء ويصبح صائما فإن الله يستجيب دعاءه كله إلا أن يدعو في معصية. أخرجه البيهقي من طريق عيسى غنجار عن محمد بن الفضل بن عطية وهو من المتهمين بالكذب عن أبان وهو أيضا متهم عن أنس مرفوعا، وأدخله ابن حجر في تبين العجب في الموضوعات.(ص:61،ط: دارالکتب العلمیة)


واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

قرآن و حدیث کی تفسیر تحقیقی میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Quran-o-Ahadees

02 Apr 2020
جمعرات 02 اپریل - 8 شعبان 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com