عنوان: منگنی کی تقریب میں لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے شربت پلانے پر پیسے دینے کا حکم منگنی کی شرعی حیثیت (3871-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ منگنی کے پروگرام میں لڑکے کے گھر والوں کو دودھ دیا جاتا ہے، اور پھر لڑکے والے لڑکی کے گھر والوں کو کچھ دے دیتے ہیں، اس عمل کی شرعاً کیا حیثیت ہے؟
نیز یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ شریعت میں منگنی کی رسم کا کیا تصور ہے؟

جواب: 1: واضح رہے کہ بعض علاقوں میں منگنی کے موقع پر لڑکی کے گھر والے لڑکے کے مہمانوں کو جو دودھ کا شربت پلاتے ہیں، اورلڑکے کی طرف سے آئے ہوئے مہمان شربت کے گلاس وغیرہ میں پیسے رکھ کر دیتے ہیں، یہ ایک دنیوی رسم ہے جس میں بسا اوقات دلی رضامندی کے بغیرشرما شرمی کی وجہ سے پیسے رکھ دیئے جاتے ہیں، اور جو پیسے نہیں رکھتا اس کو معیوب سمجھا جاتاہے، اور پیسے کم ملنے کی صورت میں لڑکی کے گھر والے ناراضگی وغیرہ کا اظہار کرتےہیں، لہٰذا اس قسم کی خرابیوں کی بنا پر اس رسم کو ترک کرنا لازم ہے ۔
2: واضح رہے کہ منگنی کی شرعی حیثیت ایک وعدے کی ہے، جس کو پورا کرنا لازم ہوتا ہے، لیکن منگنی کی تقریب کے موقع پر نام ونمود کے لیے مختلف قسم کی فضول خرچیوں، رسوم ومنکرات اور معاصی کے ساتھ با قاعدہ دعوت کے اہتمام کو ترک کرنا لازم ہے، البتہ ان چیزوں کے اہتمام کے بغیر اگر دو خاندانوں کے درمیان رشتہ داری کے معاملات طے کرنے کے لیے فریقین کے چند افراد جمع ہوجائیں، اور ان کے لیے دعوت کا انتظام کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مسند أحمد مخرجا: (أول مسند البصريين، حديث عمرو بن يثربي، رقم الحدیث: 21082، 560/34، ط: مؤسسة الرسالة)
عن عمرو بن يثربي، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «ألا ولا يحل لامرئ من مال أخيه شيء، إلا بطيب نفس منه»

رد المحتار: (696/5، ط: سعید)
وفي الفتاوى الخيرية سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاء به أم لا أجاب إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله وإن قيميا فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة ولا ينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك والأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطا ا ه

و فیہ ایضاً: (كتاب النكاح، 11/3، ط: دار الفكر)
قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اه.

المبسوط للسرخسي: (93/12، ط: رشیدیۃ)
وعن أبي الدرداء رضي الله عنه قال الواهبون ثلاثة: رجل وهب على وجه الصدقة فليس له أن يرجع فيها ورجل استوهب فوهب فله أن يرجع فيها ما لم يعوض ورجل وهب بشرط العوض فهي دين له في حياته وبعد موته ….وبيان ذلك أن المقصود من الهبة للأجانب العوض والمكافأة والمرجع في ذلك إلى العرف والعادة الظاهرة أن الإنسان يهدي إلى من فوقه ليصونه بجاهه وإلى من دونه ليخدمه وإلى من يساويه ليعوضه ….وبهذا يتبين أن حق الرجوع ليس بمقتضى العقد عندنا بل لتمكن الخلل في المقصود بالعقد على معنى أن المعروف كالمشروط ….فأما المقصود بالهبة إظهار الجود والسخاء والتودد ….فإنما يمكن الخلل

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1524 Mar 24, 2020
Mangni, ki, taqreen, mein, main, larki, ladki, kay, ke, ghar, walon, ki, tarf, taraf, say, se, sharbat, pilanay, pilane, par, paisay, paise, dainay, daine, ka, hukm, hukum, shari, sharai, haisiyat, haisiyyat, Ruling on paying money for drinking sherbet offered by the girl's family at the engagement ceremony, Shariah ruling on engagement

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.