سوال:
محترم جناب مفتی صاحب ! میں نوکری کی وجہ سے پیر کو پنڈی سے لاہور آتا ہوں اور جمعہ کو واپس پنڈی چلا جاتا ہوں۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ میری لاہور میں نماز قصر ہو گی یا پوری ہوگی؟ میں نے لاہور میں ایک فلیٹ رینٹ پے لیا ہے ۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ اپنی جائے ملازمت لاہور میں ایک مرتبہ بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے نہیں ٹھہرے ہیں، بلکہ دو تین دن گزار کر اپنے وطنِ اصلی پنڈی چلے جاتے ہیں تو اس صورت میں آپ لاہور میں پندرہ دن سے کم رہنے پر شرعی مسافر شمار ہوں گے اور لاہور میں آپ قصر نماز پڑھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل
الفتاوى الهندية: (1/ 139، ط: دار الفکر)
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية.
بدائع الصنائع: (1/ 97، ط: دار الکتب العلمیة)
فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة.
الدر المختار: (132/2، ط: دار الفكر)
(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی