سوال:
غامدی صاحب کے نزدیک قادیانی امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ ایسا تصور رکھنے والے کے اپنے ایمان کی کیا حالت ہوگی؟ کیا یہ کفریہ فتویٰ نہیں؟
جواب: قادیانی ختمِ نبوّت کے انکار کی وجہ سے کافر ہیں، اور اس پر اُمّتِ مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے، کیونکہ ختم نبوّت کا عقیدہ قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے ثابت ہے، اور ضروریاتِ دین میں سے ہے، لہٰذا کسی قادیانی کی اقتدا میں نماز ادا نہیں کی جاسکتی اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی۔
جہاں تک سوال میں جاوید احمد غامدی کی ذکر کردہ رائے کا تعلّق ہے تو موصوف کی یہ رائے قرآن و حدیث کی نصوص سے متصادم ہے، جو انتہائی گمراہی پر مبنی ہے، لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (الأحزاب، الآية: ٤٠)
﴿ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ●﴾
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی