سوال:
مفتی صاحب! میری معلومات کے مطابق نصف النہار 11:58 پر شروع ہوتا ہے اور تقریباً 12:36 تک زوال رہتا ہے، جبکہ اس دوران نفلی نماز ممنوع ہوتی ہے، تو پھر مساجد کی گھڑیوں میں صرف زوال کے وقت ہی ممنوع نماز کا پیغام کیوں آتا ہے؟
جواب: اس اشکال کی اصل وجہ "نصف النہار شرعی (ضحوۃ کبریٰ)" اور "نصف النہار حقیقی/عرفی (وقتِ استواء)" کے درمیان فرق نہ کرنا ہے؛ چنانچہ 11:58 دراصل نصف النہار شرعی ہے جو صبح صادق سے غروب تک کے وقت کا درمیانی حصہ ہوتا ہے اور اس کا تعلق صرف روزے کی نیت سے ہے، نماز کی کراہت سے نہیں، لہٰذا اس کے بعد بھی نوافل اور قضا نمازیں بلا کراہت پڑھی جا سکتی ہیں، یہاں تک کہ وقتِ استواء آ جائے؛ جبکہ نماز کی ممانعت دراصل نصف النہار حقیقی/عرفی یعنی اس وقت سے متعلق ہے جب سورج عین سر پر ہوتا ہے اور اس کے فوراً بعد زوال شروع ہوتا ہے، اسی لمحاتی وقفہ کو احتیاطاً چند منٹ پہلے اور بعد تک کے احتیاط کو ملا کر مکروہ قرار دیا جاتا ہے؛ لہٰذا مساجد کی گھڑیاں بھی اسی حقیقی استواء کے وقت کو بنیاد بنا کر (مثلاً: 12:30 سے 12:40 کے درمیان) ممنوع وقت کا پیغام دکھاتی ہیں، کیونکہ شرعاً نماز کی کراہت کا تعلق اسی مختصر دورانیہ سے ہے، نہ کہ 11:58 والے وقت سے۔
واضح رہے کہ عین نصف النہار (استواءِ شمس) کے وقت کوئی بھی نماز پڑھنا جائز نہیں، حقیقت کے اعتبار سے یہ وقت چند لمحوں پر مشتمل ہوتا ہے، کیونکہ سورج دیکھنے میں تقریباً 32 دقیقہ (یعنی نصف درجے سے کچھ زائد)کا ہے جو دائرہ نصف النہار سے گزرنے میں تقریباً 2.1 منٹ (یعنی تقریباً 2 منٹ اور 8 سیکنڈ) لیتا ہے، اس دوران کسی قسم کی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوتا ہے۔
اس کے بعد زوالِ شمس ہو جاتا ہے، جو کہ ظہر کا ابتدائی وقت ہے، جس میں کوئی بھی نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔
یہ مکروہ وقت نہایت مختصر ہوتا ہے، لیکن اس میں کچھ اضافی وقت اول اور آخر سے احتیاطاً شامل کر لیا جاتا ہے تاکہ مکروہ وقت یقینی طور پر نکل جائے اور ظہر کا وقت داخل ہو جائے۔
یہ احتیاطی وقت مختلف محقّقین اپنے اپنے ذوق کے مطابق شامل کرتے ہیں، کوئی دو، کوئی تین، کوئی چار اور کوئی پانچ منٹ تک اس میں شامل کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف نقشوں، جنتریوں اور پروگراموں میں یہ اوقات مختلف نظر آتے ہیں۔
حسابات لگاتے وقت جو وقت نصف النہار کا لکھا جاتا ہے، وہ ایسا وقت ہوتا ہے جس وقت سورج کا مرکز عین دائرۂ نصف النہار پر ہوتا ہے، حالانکہ اس سے تقریباً ایک منٹ چار سیکنڈ پہلے اور بعد تک سورج دائرۂ نصف النہار سے متعلق رہتا ہے۔
اس لیے دارالافتاؤں سے جاری ہونے والے نقشوں میں عین نصف النہار کے وقت سے احتیاطاً پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد کے وقت کو مکروہ وقت لکھا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (38/3، دار الفكر-بيروت)
و في شرح النقاية للبرجندي قد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس و لا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقب انصاف النهار بلا فصل وفي هذه القدر من الزمان لا يمكن أدا الصلاة فيه فلعل المراد أنه لا يجوز الصلاة بحيث يقع جزء فيها في هذا الزمان.
المبسوط للسرخسي: (1/ 142، دار المعرفة - بيروت)
وأصح ما قيل في معرفة الزوال قول محمد بن شجاع - رضي الله عنه - أنه يغرز خشبة في مكان مستو ويجعل على مبلغ الظل منه علامة فما دام الظل ينقص من الخط فهو قبل الزوال وإذا وقف لا يزداد ولا ينتقص فهو ساعة الزوال وإذا أخذ الظل في الزيادة فقد علم أن الشمس قد زالت.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (1/ 359، دار الفکر - بيروت)
(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه).
فتح القدير للكمال ابن الهمام: (2/ 306 ،دار الفكر)
قال في المختصر: ما بينه وبين الزوال، وفي الجامع الصغير قبل نصف النهار وهو الأصح، لأنه لا بد من وجود النية في أكثر النهار ونصفه من وقت طلوع الفجر إلى وقت الضحوة الكبرى لا إلى وقت الزوال، فتشترط النية قبلها لتتحقق في الأكثر.
المبسوط للسرخسي: (3/ 62، دار المعرفة - بيروت)
وفي الكتاب لفظان أحدهما إذا نوى قبل الزوال والثاني إذا نوى قبل انتصاف النهار، وهو الأصح فالشرط عندنا وجود النية في أكثر وقت الأداء ليقام مقام الكل، وإذا نوى قبل الزوال لم يوجد هذا المعنى؛ لأن ساعة الزوال نصف النهار من طلوع الشمس ووقت أداء الصوم من طلوع الفجر.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی