resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مسافت سفر میں چھوٹے اور بڑے راستوں میں سے کس کا اعتبار ہوگا؟

(39859-No)

سوال: مفتی صاحب! میں پنڈی میں رہتا ہوں اور ہری پور میں جاب کرتا ہوں، روانہ سفر کرتا ہوں، مجھے کمرہ بھی ملا ہوا ہے،لیکن کبھی ایک یا دو دن سے زیادہ نہیں رکا، مسافت موٹروے سے 100 کلومیٹر ہے اور جی ٹی روڈ سے 67 کلومیٹر ہے، ہم موٹروے سے سفر کرتے ہیں اورکبھی کبھی جی ٹی روڈ سے سفر کرتے ہیں ، معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر سفری نماز ہے تو کیا جماعت سے نماز پڑھنے میں سنت مؤکدہ بھی پڑھنا ضروری ہیں ؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ جس راستے سے جائیں گے، اسی راستے کا اعتبار ہوگا، اگر موٹروے سے جائیں جہاں سے مسافت 100 کلومیٹر ہے تو اس صورت میں قصر کریں گے، اور اگر جی ٹی روڈ سے جائیں جہاں سے مسافت 67 کلومیٹر ہے تو اس صورت میں پوری نماز ادا کریں گے۔
جہاں تک سنّتوں کا تعلق ہے تو اگر راستے میں ہوں اور سنّتوں کی فرصت نہ ہو تو چھوڑنے پر گناہ نہیں، لیکن جب راولپنڈی یا ہری پوری میں ٹھہرے ہوئے ہوں یا راستے میں ہوں لیکن سنّتوں کے لیے موقع میسّر ہو تو سنتیں ادا کرلینی چاہییں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (2/ 123، ط: دار الفكر)
«ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني.»
وفي رد المحتار تحته: (قوله قصر في الأول) أي ولو كان اختار السلوك فيه بلا غرض صحيح خلافا للشافعي كما في البدائع.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (1/ 94، ط: دار الكتب العلمية)
«وقال أبو حنيفة: إذا خرج إلى مصر في ثلاثة أيام وأمكنه أن يصل إليه من طريق آخر في يوم واحد ‌قصر وقال ‌الشافعي: إن كان لغرض صحيح ‌قصر، وإن كان من غير غرض صحيح لم يقصر ويكون كالعاصي في سفره، والصحيح قولنا؛ لأن الحكم معلق بالسفر فكان المعتبر مسيرة ثلاثة أيام على قصد السفر وقد وجد.»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)