سوال:
اگر ہم حرم میں تہجد کی نماز میں شریک نہیں ہوتے تو تلاوت کے وقت اپنی تلاوت کرنا یا دعائیں مانگنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: حرمین شریفین میں تہجّد کی جماعت میں شامل ہونا جائز ہے، اس لیے کہ وہاں کے ائمّہ کے فقہی مذہب (حنبلی) کے مطابق تہجد کی نماز جماعت سے پڑھنا جائز ہے، تاہم تہجد کی نماز میں شریک ہونا ضروری نہیں، اس لیے اگر کوئی شخص تہجد کی جماعت میں شامل نہ ہو تو یہ بھی جائز ہے، البتہ شامل نہ ہونے کی صورت میں جس وقت ائمہ بلند آواز سے تلاوت کر رہے ہوں، اس وقت بہتر اور اولٰی یہ ہے کہ ان کی تلاوت کو غور سے سنا جائے، تاہم اس وقت اپنی تلاوت، نوافل یا دیگر اذکار و دعاؤں میں مشغول ہوجائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*تفسير القرطبي: (7/ 353)*
وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم ترحمون (204)
فيه مسألتان: الأولى- قوله تعالى: (وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا) 20 قيل: إن هذا نزل في الصلاة، روي عن ابن مسعود وأبي هريرة وجابر والزهري وعبيد الله بن عمير وعطاء بن أبي رباح وسعيد بن المسيب. قال سعيد: كان المشركون يأتون رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى، فيقول بعضهم لبعض بمكة:" لا تسمعوا لهذا القرآن والغوا فيه «2» ". فأنزل الله جل وعز جوابا لهم" وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا 20". وقيل: إنها نزلت في الخطبة، قاله سعيد بن جبير ومجاهد وعطاء وعمرو بن دينار وزيد بن أسلم والقاسم بن مخيمرة ومسلم بن يسار وشهر بن حوشب وعبد الله بن المبارك. وهذا ضعيف، لأن القرآن فيها قليل، والإنصات يجب في جميعها، قاله ابن العربي. النقاش: والآية مكية، ولم يكن بمكة خطبة ولا جمعة.
*معارف القرآن (4/163 و 164)*
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی