سوال:
میں اسلام آباد میں ڈیوٹی کرتا ہوں اور تقریباً 12 یا 13 دن مسلسل وہاں رہتا ہوں، پھر تین دن کی چھٹی پر اپنے گھر پشاور چلا جاتا ہوں۔ اس کے بعد دوبارہ اسی طرح اسلام آباد آجاتا ہوں اور یہی معمول رہتا ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں اسلام آباد میں میری نماز قصر ہوگی یا پوری؟
جواب: واضح رہے کہ کسی جگہ کے وطنِ اقامت بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہاں کم از کم پندرہ دن یا اس سے زیادہ مدت قیام کی نیت کی جائے، لہٰذا اگر آپ اپنی جائے ملازمت اسلام آباد میں کبھی بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت سے نہیں ٹھہرے، بلکہ ہر مرتبہ بارہ یا تیرہ دن گزارنے کے بعد اپنے وطنِ اصلی پشاور واپس چلے جاتے ہیں تو اسلام آباد شرعاً آپ کا وطنِ اقامت نہیں بنے گا۔
اس صورت میں اسلام آباد میں آپ کا حکم مسافر کا ہی رہے گا، اگرچہ آپ پشاور میں چند دن گزار کر دوبارہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں اسلام آباد آجاتے ہوں، کیونکہ ہر مرتبہ اسلام آباد میں آپ کا قیام پندرہ دن سے کم رہتا ہے، اس لیے وہاں اقامت کے احکام ثابت نہیں ہوں گے۔
لہٰذا جب تک آپ کم از کم ایک دفعہ اسلام آباد میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت نہیں کریں گے، اس وقت تک آپ شرعی مسافر شمار ہوں گے اور سفر کے احکام آپ پر جاری رہیں گے، اس صورت میں اسلام آباد میں چار رکعت والی فرض نمازیں قصر کرکے دو رکعت ادا کرنا آپ پر واجب ہوگا، البتہ اگر آپ ایک مرتبہ بھی اسلام آباد میں جائے ملازمت پر پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے ٹھہر گئے تو اب اسلام آباد بھی آپ کا وطنِ اقامت بن جائے گا، اور پھر جب تک اسلام آباد میں آپ کا رہائش کا سامان موجود ہوگا اور اسے بالکلیہ ختم نہیں کریں گے تو اس وقت تک آپ جب بھی اسلام آباد آئیں گے، آپ کو اسلام آباد میں پوری نماز پڑھنی ہوگی، اگرچہ ایک دو دن کے لیے ہی کیوں نہ آئیں اور اگر آپ رہائش کا سامان بالکل ختم کرکے یہاں سے مستقل طور پر وطن اصلی کی طرف منتقل ہوجائیں تو ایسی صورت میں اسلام آباد سے آپ کا وطن اقامت ختم ہوجائے گا، اس کے بعد یہاں کبھی پندرہ دن سے کم وقت کے لیے آئیں گے تو قصر نماز پڑھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوى الهندية: (139/1، ط: دار الفکر)
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية.
بدائع الصنائع: (97/1، ط: دار الکتب العلمیة)
فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة.
الدر المختار: (132/2، ط: دار الفكر)
(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.
بدائع الصنائع: (130/1، ط: دار الکتب العلمية)
"(ووطن) الإقامة: وهو أن يقصد الإنسان أن يمكث في موضع صالح للإقامة خمسة عشر".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی