سوال:
السلام علیکم! میری اہلیہ (مرحومہ جون 2026) کی بیماری کی حالت میں 110 دن کی نمازیں اور 30 دن کے روزوں کا فدیہ ادا کرنا ہے، کتنی رقم ادا کی جائے گی؟ رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب: واضح ایک نماز اور ایک روزہ کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے، یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی بازاری قیمت ہے، جس دن نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے گا، اس دن گندم کی جو بازاری قیمت ہوگی، اس کے حساب سے ادا کرنا ہوگا، مثلاً: گندم اگر 10/07/2026 کے ریٹ کے مطابق 120 روپےفی کلو ہے تو پونے دو کلو گندم کی قیمت 210 روپے ہوئی، پانچ نمازوں اور وتر کے ساتھ روزانہ کی چھ نمازیں ہوئی، لہذا 110 دن کی کل نمازیں 660 اور 30 دن کے روزے ملا کر کل 690 فدیے ہوئے، 210 روپے ایک فدیہ کی قیمت ٹھہری تو اس حساب سے کل قیمت 144900 ایک لاکھ چوالیس ہزار نو سو روپے بنتی ہے، اتنی رقم آپ کو اپنی بیوی کی نمازوں اور روزوں کے فدیے میں ادا کرنی ہوگی۔
نوٹ: جس دن فدیہ ادا کرنا ہو اس دن گندم کے ریٹ مارکیٹ سے معلوم کرکے پونے دو کلو گندم کی قیمت کو 690 سے ضرب دے کر فدیے کی قیمت ادا کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (426/2، 427، ط: دار الفکر)
(وفدية كل صلاة ولو وترا) كما مر في قضاء الفوائت (كصوم يوم) على المذهب ... وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا
(قوله وللشيخ الفاني) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض اه
و فيه ایضاً: (72/2،ط : دار الفکر)
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم .
بدائع الصںائع: (22/2، ط: دار الکتب العلمية)
وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی