سوال:
مفتی صاحب! تشہد کے علاوہ نماز میں کن کن مقامات پر دعا مانگی جا سکتی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نماز میں تشہد کے علاوہ بھی بعض مقامات مثلاً رکوع، قومہ (رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑے ہونے کی حالت)، جلسہ (دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت) اور قعدۂ اخیرہ میں درود شریف کے بعد منقول دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
البتہ قومہ، جلسہ، رکوع اور سجدے میں دعا کا اہتمام نفل نماز میں کرنا بہتر ہے، لیکن اگر فرض نماز کسی عذر کی وجہ سے انفرادی طور پر ادا کی جا رہی ہو یا کوئی شخص جماعت میں شامل ہواور امام ان مقامات پر اتنی دیر توقف کرے کہ دعا پڑھنے کا موقع مل جائے تو اس صورت میں بھی ان جگہوں پر منقول دعائیں پڑھی جاسکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*حاشیة ابن عابدین:(1/ 506،ط:سعید)*
"ولیس بینهما ذکر مسنون ... وماورد محمول علی النفل.
(قوله محمول على النفل) أي تهجدا أو غيره خزائن. وكتب في هامشه: فيه رد على الزيلعي حيث خصه بالتهجد. اه. ثم الحمل المذكور صرح به المشايخ في الوارد في الركوع والسجود، وصرح به في الحلية في الوارد في القومة والجلسة وقال على أنه إن ثبت في المكتوبة فليكن في حالة الانفراد، أو الجماعة والمأمومون محصورون لا يتثقلون بذلك كما نص عليه الشافعية، ولا ضرر في التزامه وإن لم يصرح به مشايخنا فإن القواعد الشرعية لا تنبو عنه، كيف والصلاة والتسبيح والتكبير والقراءة كما ثبت في السنة.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی