سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک اہم شرعی مسئلے کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ قطر ائیرلائن پر سفر کے دوران مسافروں کو جہاز میں کھڑے ہو کر اور قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، بلکہ عملہ اس سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ اگر پرواز جدہ یا کسی ایسی سمت میں جا رہی ہو جہاں نشست پر بیٹھے ہوئے قبلہ کی طرف رخ ممکن ہو تو نماز ادا کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن پاکستان، آسٹریلیا یا دیگر بعض ممالک کی جانب سفر کے دوران قبلہ جہاز کی سمت کے مخالف یا مختلف جانب ہوتا ہے، جبکہ نشستوں کی ترتیب ایسی ہوتی ہے کہ قبلہ رخ بیٹھ کر نماز ادا کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔
اس سلسلے میں جب عملے سے استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ قطر کی مجلسِ شوریٰ کے فیصلے کے مطابق ہوائی جہاز میں نماز کے لیے قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے۔ براہِ کرم اس مسئلے کی شرعی حیثیت اور ہوائی جہاز میں نماز ادا کرنے کے صحیح طریقے کے بارے میں قرآن و سنت اور فقہائے کرام کی آراء کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: فرض اور واجب نمازوں کے لیے استقبالِ قبلہ اور حالتِ قدرت میں قیام بنیادی شرائط ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) ترجمہ: لو اب اپنا رخ مسجد حرام کی سمت کرلو۔ (البقرة، الایة:144) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کھڑے ہو کر نماز پڑھو، پھر اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو۔" (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر:952)
نفلی نماز تو سواری پر جس سمت وہ جا رہی ہو اشارے سے پڑھی جا سکتی ہے، لیکن فرض نماز میں اصل حکم یہی ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر نماز ادا کی جائے، چونکہ ہوائی جہاز محض سواری نہیں بلکہ ایک متحرّک کمرے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں عموماً کھڑے ہونے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، اس لیے نماز کا وقت آنے پر پہلے عملے سے مناسب جگہ پر کھڑے ہو کر قبلہ رخ نماز ادا کرنے کی اجازت طلب کرنا ضروری ہے۔ اگر اجازت مل جائے تو نماز مکمل شرائط کے ساتھ ادا کی جائے اور جہاز کی سمت تبدیل ہونے کی صورت میں حتی الامکان قبلے کی سمت بھی درست کی جائے۔
البتہ اگر عملہ سیکیورٹی یا دیگر وجوہات کی بنا پر کھڑے ہونے اور قبلہ رخ ہونے سے قطعی طور پر منع کر دے اور اس پابندی کو توڑنا ممکن نہ ہو اور منزل تک مؤخّر کرنے میں نماز کے قضاء ہونے کا خطرہ ہو تو فی الحال نمازی اپنی نشست پر بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کر لے تاکہ وقت کی حرمت فوت نہ ہو۔
تاہم فقہ حنفی اور برصغیر کے جمہور مفتیانِ کرام کی تحقیق کے مطابق چونکہ اس صورت میں فرض نماز کی دو بنیادی شرائط، یعنی قیام اور استقبالِ قبلہ، ادا نہیں ہو سکے، اس لیے ایسی نماز بعد میں منزل پر پہنچ کر دوبارہ پڑھنا (اعادہ یا قضا کرنا) لازم ہوگا۔ جبکہ بعض معاصر عرب علماء اور فقہی مجالس نے شدید مشقّت کی بنا پر ایسی نماز کو کافی قرار دیا ہے اور اعادہ کو ضروری نہیں سمجھا، لیکن فقہائے احناف کے نزدیک احتیاط اور براءتِ ذمّہ کا تقاضا یہی ہے کہ بعد میں اس نماز کو دوبارہ ادا کیا جائے، کیونکہ یہاں عذر من جہة العباد (بندوں کی طرف سے)ہے، لہٰذا عملی طور پر بہتر یہی ہے کہ پہلے جہاز میں مکمل شرائط کے ساتھ نماز ادا کرنے کی کوشش کی جائے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور نماز قضاء ہونے کا خطرہ ہو تو وقت کے اندر نشست پر اشارے سے نماز پڑھ لی جائے، پھر منزل پر پہنچ کر اس کا اعادہ کر لیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*القرآن المجید: [البقرة: 144]*
{قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ }
*سنن أبي داود ت الأرنؤوط (2/ 208، رقم الحدیث:952، دار الرسالة العالمية)*
عن عمران بن حصين، قال: كان بي الناصور، فسألت النبي- صلى الله عليه وسلم - فقال: "صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب"
*اعلاء السنن: (201/7، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ)*
ان رکنیۃ القیام قد ثبت بالنص، وهو قوله تعالى "وقوموا لله قانتين" وقوله صلى الله عليه وسلم لعمران: صل قائما فان لم تستطيع فقاعدا، وبالاجماع۔ فلا يسقط وجوبه عن القادر عليه بالقياس الذين ذكرتموہ فان القياس أضعف الدلائل لا يجوز معارضتہ القطعی لہ۔
*المبسوط للسرخسي :(1/ 123، دار المعرفة - بيروت)*
فأما الإعادة ففي القياس لا يلزمه وهو رواية عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - كما لو كان في السفر وفي الاستحسان يعيد؛ لأن عدم الماء كان لمعنى من العباد ووجوب الصلاة عليه بالطهارة لحق الله تعالى فلا يسقط بما هو من عمل العباد بخلاف المسافر فإن هناك جواز التيمم لعدم الماء لا للحبس فلا صنع للعباد فيه فهو نظير المقيد إذا صلى قاعدا تلزمه الإعادة إذا رفع القيد عنه بخلاف المريض........... يصلون بالإيماء تشبها ثم يعيدون.
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 155 دار الفكر-بيروت)*
لو تيمم لخوف العدو، فإن توعده على الوضوء أو الغسل يعيد؛ لأن العذر أتى من غير صاحب الحق، ولو خاف بدون توعد من العدو فلا؛ لأن الخوف أوقعه الله تعالى في قلبه، فقد جاء العذر من قبل صاحب الحق فلا تلزمه الإعادة. اه.
*البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 290 دار الكتاب الإسلامي)*
وينبغي أن تلزمه الإعادة عندنا إذا كان العجز لمنع من العباد كما إذا غصب ثوبه لما صرحوا به في كتاب التيمم أن المنع من الماء إذا كان من قبل العباد يلزمه الإعادة.
*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (1/ 134)*
وخائف السبع والعدو والعطش عاجز حكما .(قوله وخائف السبع والعدو والعطش) على نفسه أو دابته أو رقيقه عاجز حكما فيباح له التيمم مع وجود ذلك الماء، وكذا إذا خاف الجوع بأن كان محتاجا إلى الماء للعجين، أما إن احتاج إليه للمرقة فلا يتيمم، لكن هل يعيد إذا أمن بالوضوء؟ قال في النهاية: قلت جاز أن تجب الإعادة على الخائف من العدو بالوضوء لأن العذر من قبل العباد اه.
*البحر الرائق شرح كنز الدقائق (149/1، دار الكتاب الإسلامي )*
الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج وكذا لو قال لعبده إن توضأت حبستك أو قتلتك، فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس؛ لأن طهارة التيمم لم تظهر في منع وجوب الإعادة وفي التجنيس رجل أراد أن يتوضأ فمنعه إنسان عن أن يتوضأ بوعيد قيل ينبغي أن يتيمم ويصلي ثم يعيد الصلاة بعد ما زال عنه؛ لأن هذا عذر جاء من قبل العباد فلا يسقط فرض الوضوء عنه اه.
فعلم منه أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادة .
*الھندیۃ: (63/1، ط: دار الفکر)*
ومن أراد أن يصلي في سفينة تطوعا أو فريضة فعليه أن يستقبل القبلة ولا يجوز له أن يصلي حيثما كان وجهه. كذا في الخلاصة حتى لو دارت السفينة وهو يصلي توجه إلى القبلة حيث دارت. كذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج.
*الفقہ علی المذاھب الاربعۃ: (187/1، ط: دار الکتب العلمیة)*
ومن أراد أن يصلي في سفينة فرضا أو نفلا ، فعليه أن يستقبل القبلة متى قدر على ذلك، وليس له أن يصلي إلى غير جهتها، حتى لو دارت السفينة وهو يصلي، وجب عليه أن يدور إلى جهة القبلة حيث دارت، فإن عجز عن استقبالها صلى إلى جهة قدرته، ويسقط عنه السجود أيضا إذا عجز عنه، ومحل كل ذلك إذا خاف خروج الوقت قبل أن تصل السفينة أو القاطرة إلى المكان الذي يصلي فيه صلاة كاملة، ولا تجب عليه الإعادة، ومثل السفينة القطر البخارية البرية. والطائرات الجوية. ونحوها.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی