سوال:
اامید ہے کہ آپ اچھے ہوں گے، رات کو وقت پر سونے اور کم کھانے کے باوجود سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے مجھ سے زیادہ تر فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے، (استغفراﷲ) میں کیا کروں؟
جواب: واضح رہے کہ اگر رات کو وقت پر سونے کے باوجود سستی یا غفلت کی وجہ سے آپ کی فجر کی نماز اکثر قضا ہوجاتی ہے تو اس معاملے میں سنجیدگی سے کوشش کرنا ضروری ہے، کیونکہ نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرنا فرض ہے، جان بوجھ کر نماز قضا کرنا گناہ ہے۔ نماز کے لیے وقت پر اٹھنے کے لیے آپ درج ذیل تدابیر اختیار کریں:
1) سونے سے پہلے فجر کی نماز کے لیے پکا ارادہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔
2) ایک سے زیادہ الارم لگائیں اور موبائل فون اپنے بستر سے کچھ فاصلے پر رکھیں تاکہ الارم بند کرنے کے لیے اٹھنا پڑے۔
3) گھر کے کسی فرد سے کہیں کہ وہ آپ کو فجر کے وقت ضرور جگائے۔
4) رات کو بلا ضرورت دیر تک جاگنے اور موبائل استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔
ان تمام تدابیر کو اختیار کرنے کے باوجود بھی نیند کے غلبے کی وجہ سے اگر فجر کی نماز قضا ہوجائے تو جیسے ہی آنکھ کھلے، فوراً نماز ادا کرلیں بشرطیکہ ممنوع وقت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار اور دعا کرتے رہیں اور فجر کے وقت بیدار ہونے کے لیے مزید عملی تدابیر اختیار کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الایة: 103)
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا
صحیح مسلم: (كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها، رقم الحدیث: 684، ط: دار احیاء التراث العربی)
عن انس بن مالك ، قال: قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " من نسي صلاة، او نام عنها، فكفارتها ان يصليها إذا ذكرها ".
رد المحتار: (373/1، ط: دار الفکر)
واعلم أن الأوقات المكروهة نوعان: الأول الشروق والاستواء والغروب.
والثاني ما بين الفجر والشمس، وما بين صلاة العصر إلى الاصفرار، فالنوع الأول لا ينعقد فيه شيء من الصلوات التي ذكرناها إذا شرع بها فيه، وتبطل إن طرأ عليها إلا صلاة جنازة حضرت فيها وسجدة تليت آيتها فيها وعصر يومه والنفل والنذر المقيد بها وقضاء ما شرع به فيها ثم أفسده، فتنعقد هذه الستة بلا كراهة أصلا في الأولى منها، ومع الكراهة التنزيهية في الثانية والتحريمية في الثالثة، وكذا في البواقي، لكن مع وجوب القطع والقضاء في وقت غير مكروه:
والنوع الثاني ينعقد فيه جميع الصلوات التي ذكرناها من غير كراهة، إلا النفل والواجب لغيره فإنه ينعقد مع الكراهة، فيجب القطع والقضاء في وقت غير مكروه اه.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی