سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میں شرعی مسافر ہوں اور مجھ پر قصر واجب ہے، اگر قصر واجب ہونے کے باوجود میں ظہر، عصر یا عشاء کی چار رکعت فرض نماز پوری پڑھ لوں تو اس نماز کا کیا حکم ہوگا؟ کیا نماز ادا ہو جائے گی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟ اور کیا اس صورت میں گناہ ہوگا؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ مسافر کے لیے ظہر، عصر اور عشاء کی نماز میں قصر کرنا (یعنی چار رکعت کے بجائے دو رکعت ادا کرنا) واجب ہے، لہٰذا جان بوجھ کر چار رکعت پڑھنے والا گناہ گار ہوگا، البتہ اگر کسی نے چار رکعت ادا کرلی ہوں تو اس کے لیےکیا حکم ہوگا؟ اس کی تفصیل اور اس کا حکم درج ذیل لنک میں ملاحظہ فرمائیں:
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=7408
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (باب صلاۃ المسافر، 128/2، ط: سعید)
(فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل كما حرره القهستاني بعد أن فسر أساء بأثم واستحق النار (وما زاد نفل) كمصلي الفجر أربعا (وإن لم يقعد بطل فرضه).
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی