سوال:
السلام علیکم، ہمارے گھر میں سب کے کپڑے ایک ساتھ واشنگ مشین میں دھلتے ہیں۔ ایک دن میں نے اپنے بھائی کو ناپاک کپڑا ڈالتے ہوئے دیکھا۔اب پتہ نہیں وہ ناپاک کپڑے کب سے مشین میں دھو رہا تھا تو اب پوچھنا یہ ہے کہ جو میں نے پہلے نمازیں پڑھی تھیں وہ صحیح ہیں یا پھر مجھے پھر سے دہرانا پڑیں گی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں پاک کپڑوں کے ساتھ ناپاک کپڑوں کی دھلائی کی وجہ سے پاک کپڑے بھی ناپاک شمار ہوں گے، تاہم اگر سارے کپڑوں کو مشین سے نکالنے کے بعد پاک کرنے کے لیے ان پر تین مرتبہ پانی بہا دیا گیا ہو اور ہر مرتبہ کپڑے کو پانی کے قطرے ٹپکنے کے بند ہونے کے بقدر نچوڑا گیا ہو، یا ان کپڑوں کو نل کے ذریعے اس قدر دھویا گیا ہو کہ جس سے ناپاکی کے زائل ہونے کا غالب گمان حاصل ہو جاتا ہو، یا اگر مذکورہ مشین آٹو میٹک ہو یعنی جس میں ہر مرتبہ کپڑے دھلنے کے بعد spin کر کے سکھا دیے جاتے ہوں اور اس میں تین مرتبہ کپڑے دھو کر ہر دفعہ پاک پانی استعمال کیا گیا ہو تو اس صورت میں سارے کپڑے پاک شمار ہوکر نمازوں کے اعادہ کا حکم نہیں ہوگا۔
البتہ اگر ان میں سے کسی بھی طریقے کے مطابق کپڑوں کی پاکی حاصل نہیں کی گئی ہو، بلکہ معمولی سی دھلائی کی گئی ہو تو ایسی صورت میں سارے کپڑے ناپاک شمار ہوں گے، لہذٰا ان کپڑوں کے ساتھ پڑھی گئی نمازوں کے اعادہ کا حکم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (332/1، ط: دار الفكر)
(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر ..... (و) قدر (بتثليث جفاف) أي: انقطاع تقاطر (في غيره) أي: غير منعصر مما يتشرب النجاسة وإلا فبقلعها كما مر، وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.
(قوله: أو صب عليه ماء كثير) أي: بحيث يخرج الماء ويخلفه غيره ثلاثا؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر هو الصحيح سراج.
البحر الرائق: (250/1، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وأما حكم الصب فإنه إذا صب الماء على الثوب النجس إن أكثر الصب بحيث يخرج ما أصاب الثوب من الماء وخلفه غيره ثلاثا فقد طهر؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر والمعتبر غلبة الظن هو الصحيح.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی