resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حقیقت کے خلاف زائد رقم کا مطالبہ کرنا

(38750-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے آپ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خیریت سے ہوں گے ۔ ایک مسئلہ میں آپ کی رہنمائی چاہیے۔
مسئلہ کی تفصیل:
لاہور میں میرے پاس لیز پر ایک نرسری ہے، جس کا ایک حصہ میں نے اپنے بھائی کو کاروبار کے لیے دے دیا۔ اس حوالے سے ہمارے درمیان ایک باقاعدہ معاہدہ بھی ہوا، جس میں 50,000 روپے بطور سیکیورٹی درج تھے، تاہم میرے بھائی نے یہ رقم ادا نہیں کی، چونکہ وہ میرا بھائی تھا اور میں اس کے کاروبار میں آسانی چاہتا تھا، اس لیے میں نے بغیر سیکیورٹی لیے ہی معاہدے پر دستخط کر دیے۔
ابتدائی دو سے تین ماہ تک اس نے مجھے کوئی کرایہ ادا نہیں کیا، پھر اچانک اس نے کہا کہ اسے یہ جگہ مزید نہیں چاہیے اور میں اسے کسی اور کو دے سکتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اس جگہ پر 1,70,000 روپے خرچ کیے ہیں، جو مجھے اسے ادا کرنے ہوں گے۔ میں نے اسی وقت 70,000 روپے ادا کر دیے، جس کی رسید میرے پاس موجود ہے، جبکہ باقی 1,00,000 روپے بعد میں دینے کا وعدہ کیا۔
کچھ عرصے بعد ایک دوسرے بھائی کی وساطت سے وہی دکانیں کرائے پر دے دی گئیں، چونکہ میں پاکستان میں موجود نہیں تھا، اس لیے میں نے اسی بھائی کو کہا کہ وہ نئے کرایہ دار کے ساتھ معاہدہ کرے اور دکان کا کرایہ وصول کرے، جب تک اس کی بقایا رقم ایک لاکھ پوری نہ ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے میں نے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا اور جب بھی وہ کرایہ وصول کرتا، اس کی رقم اصل واجب الادا رقم میں سے منہا کر دی جاتی تھی۔
دو ماہ بعد اس بھائی نے واٹس ایپ گروپ چھوڑ دیا اور نیا دعویٰ کیا کہ اس کا کل خرچ 4,00,000 روپے ہے۔ میں نے اس سے اس اضافی رقم کا ثبوت طلب کیا، لیکن اس کے پاس کوئی رسید یا ثبوت موجود نہیں تھا۔ میں نے واضح کیا کہ ہمارے درمیان 1,70,000 روپے طے ہوئے تھے اور اسی کے مطابق ادائیگی جاری رکھی گئی۔
دسمبر 2025 تک اس کی مکمل رقم 1,70,000 روپے ادا ہو چکی تھی، بلکہ 6,000 روپے زائد بھی ادا ہو گئے تھے۔ اس کے باوجود اس نے دکان کا کرایہ وصول کرنا جاری رکھا اور کہا کہ جب تک اسے یک مشت 4,00,000 روپے ادا نہیں کیے جاتے، وہ قبضہ نہیں چھوڑے گا۔
مارچ 2026 تک وہ کرایہ وصول کرتا رہا اور مجموعی طور پر 2,24,000 روپے وصول کر چکا تھا۔ بعد ازاں، اس کے بار بار اصرار پر میں نے اس سے کہا کہ وہ قرآن پاک پر حلف دے کہ واقعی اس کا خرچ 4,00,000 روپے ہے، تو میں اسے مکمل رقم ادا کر دوں گا۔ اس نے واٹس ایپ کال پر حلف دیا (اگرچہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر نہیں)، جس کے بعد میں نے اسے 4,00,000 روپے ادا کر دیے۔
اس ضمن میں میرے چند سوالات ہیں:
1) کیا اس بھائی کو 2,24,000 روپے رکھنا جائز ہے؟
2) کیا اس کا یہ مطالبہ کہ جب تک یک مشت 4,00,000 روپے ادا نہ کیے جائیں، وہ قبضہ نہیں چھوڑے گا، شرعاً درست ہے؟
3) 224000 کی رقم میرا حق ہے یا بھائی کا؟
نوٹ؛ میں حلفاً اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اوپر تحریر کیے گئے تمام حقائق و واقعات میرے علم اور سوچ کے مطابق بالکل درست ہیں اور اس میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں ہے۔

جواب: ١﴾ آپ کے بھائی نے اس جگہ پر جو 1,70,000 روپے خرچ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اس کی شرعی حیثیت درج ذیل ہے:
الف) اگر آپ کے بھائی نے یہ رقم آپ کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے خرچ کی تھی تو شرعاً یہ "تبرّع" (احسان) شمار ہوگا اور وہ اس رقم کا آپ سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے۔
ب) اگر یہ رقم پودوں وغیرہ پر خرچ کی گئی تھی تو چونکہ وہ کاروبار بھائی کا تھا، اس لیے اس کاروبار کا نفع اور نقصان وہ خود اٹھا چکے ہیں۔ اس مد میں وہ آپ سے کسی رقم کے مطالبے کا حق نہیں رکھتے۔
ج) اگر انہوں نے یہ رقم وہاں کسی قسم کی تعمیرات پر لگائی تھی تو شرعی قاعدے کے مطابق وہ صرف اپنے "ملبے" (Material) کے حقدار ہیں۔ وہ آپ کو اس اصل رقم کی ادائیگی پر مجبور نہیں کر سکتے۔
د)ہاں! اگر آپ اپنی خوشی سے ان کی دلجوئی کے لیے 1,70,000 روپے دے کر وہ تعمیرات اپنے پاس رکھنا چاہیں تو یہ جائز ہے، لیکن بھائی کی طرف سے اس رقم کے لیے آپ پر زبردستی کرنا یا اسے لازم قرار دینا شرعاً درست نہیں ہے۔

3/2) آپ کے دوسرے اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے:
الف) آپ کے بھائی کا یہ مطالبہ کہ "جب تک 4,00,000 روپے یک مشت ادا نہیں کیے جائیں گے، قبضہ نہیں چھوڑوں گا" شرعاً بالکل غلط اور ناجائز ہے، کیونکہ اس دعوے اور اپنے حق کے ثابت کرنے پر اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، لہذا یہ دعوی باطل ہے خصوصاًجبکہ وہ جگہ چھوڑنے کا اعلان بھی کر چکے تھے اور نیا کرایہ دار آچکا تھا تو ان کا وہاں کوئی حقِ قبضہ باقی نہیں رہا تھا۔ رقم کے مطالبے کی آڑ میں کرایہ وصول کرتے رہنا "غصب" کے زمرے میں آتا ہے۔
ب) چونکہ دسمبر 2025 تک ان کا ابتدائی دعویٰ (1,70,000 روپے) مکمل ہو چکا تھا(جس کا حکم پہلے لکھا جا چکا ہے)، بلکہ 6,000 روپے مذکور دعوی سے زائد بھی ادا ہو چکے تھے، لہٰذا اس کے بعد جو 2,24,000 روپے انہوں نے کرائے کی مد میں وصول کیے، وہ مکمل طور پر آپ کا حق ہے۔
ج) اگر انہوں نے حقیقت کے برعکس 4 لاکھ کا دعویٰ کیا اور محض رقم بٹورنے کے لیے حلف دیا تو یہ "یمینِ فاجرہ" (جھوٹی قسم) ہے جو کہ سخت گناہ ہے اور اس کے ذریعے حاصل کی گئی رقم حرام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (6/ 79، ط: دار الفكر- بيروت)
(وعمارة الدار) المستأجرة (وتطيينها وإصلاح الميزاب وما كان من البناء على رب الدار) وكذا كل ما يخل بالسكنى (فإن أبى صاحبها) أن يفعل (كان للمستأجر أن يخرج منها إلا أن يكون) المستأجر (استأجرها وهي كذلك وقد رآها) لرضاه بالعيب.(وإصلاح بئر الماءوالبالوعة والمخرج على صاحب الدار) لكن (بلا جبر عليه) ؛ لأنه لا يجبر على إصلاح ملكه (فإن فعله المستأجر فهو متبرع)
(قوله فهو متبرع) أي ولا يحسب له من الأجرة.

درر الحكام شرح غرر الأحكام: (2/ 228، ط: دار إحياء الكتب العربية)
صح استئجار أرض (لبناء أو غرس) ؛ لأنه منفعة معلومة تقصد بعقد الإجارة عادة (فإذا مضى المدة قلعه) أي البناء أو نحوه وسلم الأرض فارغة (إلا أن يضمن المؤجر قيمته) أي قيمة البناء ونحوه (مستحق القلع) ، فإذا ضمن يتملكه بلا رضى المستأجر إن نقص القلع الأرض وإلا فبرضاه (أو يرضى) أي المؤجر (بتركه) فيكون البناء والغرس لصاحبهما والأرض لصاحبها.

السنن الكبرى للبيهقي: (رقم الحدیث: 20707، 10/ 300، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من اقتطع مال امرئ مسلم بيمين كاذبة لقي الله وهو عليه غضبان " , قال عبد الله: ثم قرأ علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مصداقه من كتاب الله عز وجل: {إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا} [آل عمران: 77] الآية رواه البخاري في الصحيح عن الحميدي , ورواه مسلم عن ابن أبي عمر , عن سفيان

سنن الترمذي: (رقم الحدیث: 1341، 3/ 19، ط: دار الغرب الإسلامي)
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه.

السنن الكبرى للبيهقي: (رقم الحدیث: 11545، 6/ 166، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "

المبسوط للسرخسي: (49/11، ط: دار المعرفة - بيروت)
والحكم الأصلي الثابت بالغصب وجوب رد العين على المالك بقوله - صلى الله عليه وسلم -: «على اليد ما أخذت حتى ترد» وقال - صلى الله عليه وسلم -: «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا، ولا جادا، فإن أخذه فليرده عليه» وقال - صلى الله عليه وسلم -: «من وجد عين ماله فهو أحق به» ومن ضرورة كونه أحق بالعين وجوب الرد على الآخذ، والمعنى فيه أنه مفوت عليه يده بالأخذ، واليد لصاحب المال في ماله مقصود به يتوصل إلى التصرف والانتفاع ويحصل ثمرات الملك، فعلى المفوت بطريق العدوان نسخ فعله ليندفع به الضرر والخسران عن صاحبه. وأتم وجوهه رد العين إليه ففيه إعادة العين إلى يده كما كان فهو الواجب الأصلي لا يصار إلى غيره إلا عند العجز عنه، فإن عجز عن ذلك بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه ضمان المثل جبرانا لما فوت على صاحبه؛ لأن تفويت اليد المقصودة كتفويت الملك عليه بالاستهلاك.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals