سوال:
مفتی صاحب! میں نے قسم کھائی کہ اگر میں نے یہ کام کرلیا تو جب جب میرا نکاح ہوتو میری بیوی کو طلاق طلاق طلاق، براہ کرم اب اس کا کوئی شرعی حیلہ بتائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کے ان الفاظ "اگر میں نے یہ کام کرلیا تو جب جب میرا نکاح ہو تو میری بیوی کو طلاق، طلاق، طلاق" کہنے سے کُلَّما کی طلاق معلّق بالشرط منعقد ہوچکی ہے۔
لہٰذا اگر آپ اس وقت غیر شادی شدہ ہیں اور آئندہ نکاح ہونے کی صورت میں طلاق سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے نکاح کرلیں اور اس کے بعد وہ کام کریں جسے شرط کے ساتھ معلّق کیا تھا، اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
البتہ اگر آپ نے وہ کام نکاح سے پہلے کرلیا، جسے شرط کے ساتھ معلّق کیا تھا تو شرط کے پائے جانے کے بعد آپ جب جب کسی عورت سے نکاح کریں گے، اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور وہ عورت اسی وقت آپ کے نکاح سے نکل جائے گی۔
تاہم اس صورت میں طلاق سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود کسی عورت سے نکاح نہ کریں اور نہ ہی کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنائیں، بلکہ آپ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص "فضولی" کی حیثیت سے آپ کا نکاح کرادے اور آپ کی طرف سے ایجاب و قبول کرکے بعد میں آپ کو اطلاع دے دے کہ اس نے آپ کا نکاح فلاں عورت سے کرادیا ہے۔ پھر آپ اس نکاح کو زبانی طور پر قبول نہ کریں، بلکہ پورا مہر یا اس کا کچھ حصہ ادا کردیں یا تحریری اجازت دے دیں تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہوجائے گا اور بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع: (23/3، ط: دار الكتب العلمية)
ولو عقد اليمين على التزوج بكلمة كلما فطلقت ثلاثا بكل تزوج ثم تزوجها بعد زوج آخر طلقت؛ لأنه أضاف الطلاق إلى الملك، والطلاق المضاف إلى الملك يتعلق بوجود الملك.
حاشیة ابن عابدین: (846/3، ط: دار الفکر)
( حلف لا يتزوج فزوجه فضولي فأجاز بالقول حنث وبالفعل ) ومنه الكتابة خلافا لابن سماعة ( لا ) يحنث به يفتى.
حاشیة ابن عابدین: (846/3، ط: دار الفكر)
(قوله وبالفعل) كبعث المهر أو بعضه بشرط أن يصل إليها وقيل الوصول ليس بشرط نهر وكتقبيلها بشهوة وجماعها لكن يكره تحريما لقرب نفوذ العقد من المحرم بحر.
قلت: فلو بعث المهر أولا لم يكره التقبيل والجماع لحصول الإجازة قبله (قوله ومنه الكتابة) أي من الفعل ما لو أجاز بالكتابة لما في الجامع حلف لا يكلم فلانا أو لا يقول له شيئا فكتب إليه كتابا لا يحنث، وذكر ابن سماعة أنه يحنث نهر…..وينبغي أن يجيء إلى عالم ويقول له ما حلف واحتياجه إلى نكاح الفضولي فيزوجه العالم امرأة ويجيز بالفعل فلا يحنث، وكذا إذا قال لجماعة لي حاجة إلى نكاح الفضولي فزوجه واحد منهم.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی