resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیوی کو تین مرتبہ پشتو زبان میں "طلاق درکوم" (طلاق دیتا ہوں) کہنا

(39883-No)

سوال: مفتی صاحب! میں نے اپنی بیوی سے تین مرتبہ کہا کہ "طلاق درکوم" (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں)، تم مجھ پر بہن اور ماں جیسی ہو، تم اب میری بیوی نہیں رہیں۔ ان الفاظ کے کہنے سے شرعی طور پر طلاق کی کیا حیثیت ہوگی؟ لفظ "طلاق درکوم" (طلاق دیتا ہوں) اور بیوی کو "ماں بہن" قرار دینے سے طلاقِ رجعی واقع ہوگی یا طلاقِ مغلظہ واقع ہوگی؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں بیوی کو مذکورہ الفاظ تین مرتبہ کہنے سے تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مُغلّظہ ثابت ہوگئی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے، اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو پھر وہ عورت عدت گزار کر اگر اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیۃ: 230)
فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

الفتاوى الهندية: (384/1، ط: دار الفكر)
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce