resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ہوٹل کے کاروبار میں مضاربت کی صورت، نفع و نقصان کی تقسیم کا طریقہ کار

(39765-No)

سوال: ایک کاروباری صورت اس طرح رائج ہے کہ ہوٹل کا تمام سرمایہ، سامان اور اخراجات ایک فریق کی طرف سے ہوتے ہیں، جبکہ دوسرا شخص بغیر کسی مالی شرکت کے ہوٹل کے انتظام و انصرام اور چلانے کی ذمہ داری سنبھالتا ہے، اور حاصل ہونے والے منافع میں دونوں فریق باہمی رضامندی سے شریک ہوتے ہیں۔
دریافت طلب امور یہ ہیں:
کیا اس نوعیت کی شرکت شرعاً جائز ہے؟
منافع کی تقسیم کن شرائط کے ساتھ درست ہوگی؟
نقصان کی صورت میں فریقین پر کس حد تک ذمہ داری عائد ہوگی؟
اگر اس معاملہ میں کوئی شرعی قباحت ہو تو اس کی درست اور جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ معاملہ کی شرعی حیثیت مضاربت کی ہے، چنانچہ اگر کل سرمایہ نقد شکل میں ہے تو یہ صورت بالاتفاق درست ہے، لیکن اگر شروع میں سامان بھی سرمایہ کے طور پر دیا جارہا ہے تو فقہائے احناف کے مطابق یہ صورت درست نہیں ہوگی، جس کی درستگی کے لئے ضروری ہے کہ سامان فروخت کردیا جائے، اور تمام سرمایہ نقد رقم میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس طرح مذکورہ صورت شرعاً جائز ہوگی۔
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اوپر ذکر کیے گئے طریقہ پر عمل کیا جائے، لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو فقہائے حنابلہ کی ایک روایت کے مطابق سامان کو سرمایہ بنانے کی اجازت ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ شروع میں ہی سامان کی قیمت لگا لی جائے، اور سامان کی قیمت بمع نقد کل رقم کو ابتدائی سرمایہ (رأس المال) سمجھا جائے۔ ضرورت کے وقت اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
منافع کی تقسیم فیصدی تناسب سے طے کرنا ضروری ہے، مثلاً: نصف، تہائی، پچاس فیصد وغیرہ۔ کسی ایک فریق کے لیے متعین رقم کی صورت میں نفع مقرر کرنا درست نہیں، فریقین باہمی رضامندی سےنفع کا کوئی بھی تناسب طے کرسکتے ہیں۔
نقصان کی صورت میں سب سے پہلے وہ نقصان نفع کی رقم (چاہے فریقین تقسیم کرچکے ہوں) سے پورا کیا جائے گا، لیکن اگر پھر بھی نقصان بچتا ہے تو وہ نقصان سرمایہ دار (رب المال) کا ہوگا، اور منتظم (مضارب) کا نقصان اس کی محنت کا ضائع ہونا ہے۔ البتہ اگر مضارب کی کوتاہی، خیانت یا شرط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو سارے نقصان کا ضامن مضارب ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مجلة الأحكام العدلية: (ص: 272، ط: نور محمد)
المادة (1409) ‌يشترط ‌أن ‌يكون ‌رأس ‌المال مالا صالحا لأن يكون رأس مال شركة. انظر الفصل الثالث من باب شركة العقد فلذلك لا يجوز أن تكون العروض والعقار والديون التي في ذمم الناس رأس مال في المضاربة. لكن إذا أعطى رب المال شيئا من العروض وقال للمضارب: بع هذا واعمل بثمنه مضاربة ، وقبل المضارب وقبضه وباع ذلك المال واتخذ بدله النقود رأس مال وباع واشترى فتكون المضاربة صحيحة ، كذلك إذا قال: اقبض كذا درهما الدين الذي لي في ذمة فلان واستعمله في طريق المضاربة ، وقبل الآخر فتكون المضاربة صحيحة.

البحر الرائق: (7/ 263، ط: دار الكتاب الإسلامي)
[كتاب المضاربة] (‌هي ‌شركة ‌في ‌الربح ‌بمال ‌من ‌جانب ‌وعمل ‌من ‌جانب) فلو شرط كل الربح لأحدهما لا يكون مضاربة ويجوز التفاوت في الربح

تحفة الفقهاء: (3/ 20، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
ومن شرط صحتها ‌أن ‌يكون ‌الربح جزءا مشاعا من الجملة أما إذا عين بأن قال على أن لك من الربح مائة درهم أو نحوها فلا يصح

المغني لابن قدامة: (7/ 124، ط: دار عالم الكتب للطباعة والنشر والتوزيع، الرياض)
وعن أحمد رواية أخرى، ‌أن ‌الشركة ‌والمضاربة ‌تجوز بالعروض، وتجعل قيمتها وقت العقد رأس المال.

کذا فی تبویب فتاوی جامعه دار العلوم کراتشی: رقم الفتوی: (9/962)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial