resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ایفیلیٹ مارکٹنگ (Affiliate Marketing) میں پیڈ ایڈز (paid ads) کے ذریعہ ٹریفک لانا اور اس پر کمیشن لینا، جبکہ کمپنی کی طرف سے ممانعت ہو

(39766-No)

سوال: السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاته! میں افیلیٹ مارکیٹنگ سے متعلق ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اور اس معاملے میں اسلامی نقطۂ نظر سے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
بہت سے لوگ اپنی افیلیٹ ریفرل لنکس کو گوگل ایڈز یا دیگر پیڈ ایڈورٹائزنگ طریقوں کے ذریعے پروموٹ کرتے ہیں تاکہ سیلز حاصل کی جا سکیں، لیکن بعض کمپنیاں واضح طور پر یہ شرط رکھتی ہیں کہ پیڈ ٹریفک کی اجازت نہیں ہے، بلکہ صرف آرگینک ٹریفک (جیسے بلاگز، ویب سائٹس یا سوشل میڈیا فالوورز کے ذریعے آنے والی ٹریفک) ہی جائز ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی کمپنی کے افیلیٹ لنک کو پیڈ ایڈز کے ذریعے پروموٹ کروں اور اس سے کمیشن حاصل کروں، جبکہ کمپنی کی پالیسی میں واضح طور پر پیڈ ٹریفک کی ممانعت ہو تو کیا اسلامی اصولوں کے مطابق یہ کمائی حلال ہوگی یا حرام؟
میری نیت یہ ہے کہ میں کسی بھی ایسے کام میں ملوث نہ ہوں جو دینی اعتبار سے ناجائز ہو یا جس میں دھوکہ دہی شامل ہو اور میری کمائی ہر لحاظ سے اسلام میں جائز ہو، براہِ کرم اس معاملے میں میری رہنمائی اور وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ جائز اور حلال اشیاء کے افیلیٹ لنک كی تشہیر کرکے اس پر کمیشن لینا فی نفسہ (بذات خود) جائز ہے، بشرطیکہ اس میں اور کوئی خلاف شرع معاملہ نہ پایا جائے، البتہ پوچھی گئی صورت میں چونکہ کمپنی کی طرف سے صرف آرگینک ٹریفک پر ہی کمیشن دینا طے کیا گیا ہے، اور پیڈ ٹریفک کی اجازت نہیں ہے، اس لئے اگر آپ افیلیٹ لنک کی تشہیر پیڈ ایڈز کے ذریعہ کرکے ٹریفک لاتے ہیں تو اس صورت میں چونکہ جس بات (آرگینک ٹریفک) پر معاہدہ ہوا تھا، آپ نے اس سے ہٹ کر (پیڈ ایڈز کا) طریقہ اختار کیا ہے، جو کہ خلاف معاہدہ ہے، لہذا اس پر کمیشن لینا معاہدہ کی خلاف ورزی اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، اس سے حاصل ہونے والی اجرت (کمیشن) بھی حلال نہیں ہوگی، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (1/ 707، ط: دار الجيل)
تعدي الأجير هو أن يعمل عملا أو يتحرك حركة مخالفتين لأمر الآجر صراحة أو دلالة مثلا بعد قول المستأجر للراعي الذي هو أجير خاص ارع هذه الدواب في المحل الفلاني ولا تذهب بها إلى محل آخر فإن لم يرعها الراعي في ذلك المحل وذهب بها إلى محل آخر ورعاها يكون متعديا فإن عطبت الدواب عند رعيها هناك يلزم الضمان على الراعي، كذلك لو أعطى أحد قماشا إلى خياط وقال إن خرج قباء فصله وقال الخياط يخرج وفصله فإن لم يخرج قباء له أن يضمن الخياط القماش.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (8/ 18، ط: دار الكتاب الإسلامي)
ولا أجر لجميع المسائل التي قيد فيها والتقييد مقيد إذا خالف.

کذا فی تبویب فتاوی جامعة دارالعلوم کراتشي: رقم الفتوی: (60/1847)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial