resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ٹیکسٹ میسج (Text Msg) کے ذریعے نکاح کا حکم

(39776-No)

سوال: محترم علمائے کرام! میں اپنے ماضی کے ایک واقعے کے بارے میں اپنی ازدواجی حیثیت کے متعلق واضح شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آیا میں اس وقت نکاح میں ہوں یا اپنے خاندان کی اجازت سے کسی اور سے نکاح کرنے کے لیے آزاد ہوں؟
تفصیلات: اس واقعے کے وقت میری عمر 15 سال تھی (یعنی میں نابالغ تھی)، سارا معاملہ صرف ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے ہوا، نہ کوئی ویڈیو کال ہوئی، نہ فون کال اور نہ ہی ہم کبھی حقیقت میں ملے یا ایک دوسرے کو دیکھا۔
مجھے اس لڑکے کی اصل شناخت معلوم نہیں تھی، اس نے جعلی آئی ڈی استعمال کی اور ٹیکسٹ میں بھی مختلف نام بتایا، جس کی تصدیق ممکن نہیں۔
میرے والد (ولی) اس میں شامل نہیں تھے، نہ انہیں علم تھا اور نہ ہی انہوں نے اجازت دی۔ میری طرف سے کوئی گواہ موجود نہیں تھا، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کی طرف سے کوئی گواہ تھا یا نہیں یا اس نے میسجز کسی کو سنائے تھے،صرف میسجز کا تبادلہ ہوا۔
موجودہ صورتحال کئی سالوں سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے، میرے پاس اس تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، نہ ہی اس کا اصل نام یا مقام معلوم ہے۔
میرے سوالات:
کیا ایک 15 سالہ لڑکی کا بغیر ولی اور گواہوں کے صرف ٹیکسٹ میسج کے ذریعے کیا گیا نکاح شریعت میں درست شمار ہوتا ہے؟
اگر یہ نکاح درست نہیں ہے تو کیا مجھے مستقبل میں کسی اور سے نکاح کے لیے باقاعدہ طلاق (طلاق/خلع) کی ضرورت ہوگی؟
اگر میں اب اپنے ولی کی اجازت سے کسی اور سے نکاح کروں تو کیا یہ زنا شمار ہوگا یا میں اس وقت غیر شادی شدہ ہوں؟
میں اس وقت کم عمر تھی اور مجھے اپنے عمل کی سنگینی کا احساس نہیں تھا، اب میں صحیح اور حلال راستہ اختیار کرنا چاہتی ہوں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ جب کوئی لڑکی یا لڑکا پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو شرعاً اس پر بالغ کے احکام جاری ہوتے ہیں، البتہ نکاح کے درست ہونے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ یہ شرط بھی ضروری ہے کہ لڑکا اور لڑکی یا ان کے وکیل گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایک ہی مجلس میں ایجاب وقبول کریں، جبکہ صرف ٹیکسٹ میسج (Text Msg) کے ذریعے نکاح کا پیغام دینے یا قبول کرنے کے ذریعے یہ شرط پوری نہیں ہوتی۔
پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً صرف ٹیکسٹ میسج (Text Msg) کے ذریعے نکاح کی بات ہوئی تھی، اور باقاعدہ ایک ہی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں نکاح طے نہیں ہوا تھا تو یہ نکاح درست نہیں ہوا ہے، لہٰذا اگر آپ کہیں اور نکاح کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہوگی۔
تاہم میسج کے ذریعے غیر محرم کے ساتھ جو گفتگو ہوئی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھدایة: (کتاب النکاح، 185/1، ط: دار احياء التراث العربي)
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔

بدائع الصنائع: (فصل ركن النكاح، 231/2، ط: دار الكتب العلمية)
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الالفاظ بطريق الاصالة ينعقد بها بطريق النيابة بالوكالة والرسالة؛ لان تصرف الوكيل كتصرف الموكل وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلی الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك اما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وان فعله بغير امره فقد اجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والاجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.

البحر الرائق: (کتاب النکاح، 94/3، ط: دار الکتاب الاسلامی)
(قوله: عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين، ولو فاسقين أو محدودين أو أعميين أو ابني العاقدين) متعلق بينعقد بيان للشرط الخاص به، وهو الإشهاد فلم يصح بغير شهود لحديث الترمذي «البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن من غير بينة» ولما رواه محمد بن الحسن مرفوعا «لا نكاح إلا بشهود» فكان شرطا ولذا قال في مآل الفتاوى: لو تزوج بغير شهود ثم أخبر الشهود على وجه الخبر لا يجوز إلا أن يجدد عقدا بحضرتهم.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah