resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سخت غصے میں طلاق دینے اور طلاق کی تعداد یاد نہ ہونے کا حکم

(39781-No)

سوال: شوہر نے بیوی کو شدید غصے کی حالت میں رات کے وقت میسج پر طلاق لکھ کر بھیج دی اور اگلے ہی لمحے سو گیا، غصہ اس قدر شدید تھا کہ اس وقت اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے، کیا بول رہا ہے یا کیا لکھ رہا ہے۔ اسے کچھ ہوش نہیں تھا۔
شوہر کو پہلے سے ذہنی مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید غصے میں آ جاتا ہے اور اس حالت میں گھر کی چیزیں توڑنا شروع کر دیتا ہے، جیسے: ٹی وی، موبائل، پردے اور دروازے وغیرہ۔ اس کا ڈاکٹر سے علاج بھی جاری ہے۔ میسج لکھتے وقت اس کا غصہ اس قدر شدید تھا کہ وہ اپنے حواس میں نہیں تھا، جب وہ صبح اٹھا تو اسے رات کی کسی بات کا کچھ بھی یاد نہیں تھا کہ کیا بات ہوئی، کب اور کیسے ہوا۔ اسے ایک لفظ بھی یاد نہیں۔
بیوی کو بھی صحیح طرح یاد نہیں کہ میسج میں کتنی دفعہ طلاق لکھی گئی یا کون سے الفاظ تھے، کیونکہ بیوی نے وہ میسج ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ شوہر کو تو بالکل بھی یاد نہیں کہ میسج کیا تھا، اور اس بات کا کوئی گواہ بھی نہیں ہے۔
شوہر اور بیوی دونوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس وقت شوہر شراب کے نشے میں تھا یا نیند کی حالت میں تھا، بیوی اس وقت سامنے موجود نہیں تھی، صرف میسج بھیجا گیا تھا، مگر شوہر اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہے کہ اسے کچھ بھی یاد نہیں اور نہ ہی اس کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ تھا۔ اسے رات کے واقعے کی ایک بات بھی یاد نہیں۔ پتہ نہیں نیند کی حالت میں میسج کیا گیا، کیونکہ وہ اگلے ہی لمحے سو گیا اور صبح اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا، بیوی اس واقعے کے وقت موجود نہیں تھی، وہ اپنے والدہ کے گھر تھی۔ براہ کرم رہنمائ فرمائیں کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر شدید غصے کی وجہ سے شوہر کی کیفیت مجنون و مدہوش جیسی ہو گئی تھی، یعنی وہ اپنی عقل اور زبان پر قابو نہیں رکھتا تھا اور بلا اختیار و بلا قصد اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ نکل گئے تھے تو ایسی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ اگر وہ مجنون و مدہوش کی کیفیت میں نہیں تھا، بلکہ اسے اپنے حواس پر کسی قدر قابو تھا، یعنی کچھ باتیں یاد تھیں اور کچھ نہیں، اگرچہ وہ شدید غصے کی حالت میں تھا، یا اس دوران اس نے شراب پی تھی (جس کی وجہ سے مذکورہ کیفیت کا ہونا ظاہر ہے) تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے۔
اس صورت میں اگر واقعتاً میاں بیوی کو طلاق کی تعداد بالکل یاد نہیں ہے اور طلاق کا میسج دونوں کے موبائل سے ڈیلیٹ ہو چکا ہے تو اوّلاً حتی الامکان اس میسج کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ آج کل ایسے طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے موبائل سے ڈیلیٹ شدہ میسج واپس لایا جا سکتا ہے۔
نیز شوہر کو چاہیے کہ وہ اچھی طرح غور و فکر کرے اور جس طرف اس کا غالب گمان ہو اسی کے مطابق فیصلہ کرے۔
تاہم اگر میسج کو دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہ ہو اور شوہر کے لیے کسی جانب غالب گمان بھی حاصل نہ ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ طلاق کی تعداد میں شک ہے، لیکن تعداد میں شک کی صورت میں اقل کو یقینی قرار دیا جاتا ہے، لہٰذا ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ہے۔ جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر اگر شوہر زبانی یا فعلی (میاں بیوی کے تعلقات قائم کرکے وغیرہ) رجوع کرنا چاہے تو وہ رجوع کرکے نکاح کو بحال کر سکتا ہے۔
بہرحال! جو بھی حقیقی صورتِ حال ہو، میاں بیوی کو اپنی آخرت سامنے رکھتے ہوئے اسی کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (99/3، ط: دار الکتب العلمیة)
وأما السكران إذا طلق امرأته فإن كان سكره بسبب محظور بأن شرب الخمر أو النبيذ طوعا حتى سكر وزال عقله فطلاقه واقع عند عامة العلماء وعامة الصحابة - رضي الله عنهم-

الاشباہ و النظائر لابن نجيم: (196/1، ط: ادارة القرآن)
شك هل طلق أم لا لم يقع.شك أنه، طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر، أو يكون أكبر ظنه على خلافه

رد المحتار: (244/3، ط: دار الفکر)
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه. ملخصا ..... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

اعلاء السنن: (180/11، ط: ادارۃ القرآن)
والمراد الغضب الذي یحصل به الدھش وزوال العقل فإن قلیل الغضب لایخلو الطلاق عنہ إلانادراً، وقد قلنا بعدم وقوع الطلاق في مثل ھذا الغضب قال الزیلعی: قال فی التنقیح: وقد فسرہ أحمد أیضًا بالغضب۔ قال شیخنا : والصواب أنہ یعُمّ الإکراہ والغضب والجنون وکل أمرٍ ا نغلق علی صاحبہ عِلمُه وقصدہ، مأخوذ من غلق الباب.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce