سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اس رمضان میں اکثر مساجد میں نوجوانوں کو سختی سے اعتکاف کرنے کا منع کر دیا گیا تھا کیونکہ ائمہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ نوجوان عبادت کی بجائے زیادہ باتیں کرتے ہیں یا موبائل استعمال کرتے ہیں۔
معلوم یہ کرنا تھا کہ اس میں دو رائے تھی کچھ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صحیح تھا، دوسری رائے یہ تھی اگر ہمارے نوجوان نسل جو عموماً سارا سال مسجد میں نہیں آتی تو کیا یہ ائمہ اور دیندار حضرات کی شرعی ذمّہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان کی مسجد میں اس دوران دینی تربیت کرتے تاکہ وہ سارا سال نمازوں کی پابندی کریں، نہ کہ ان کو مسجد آنے سے سختی سے منع کر دیا جائے اور بھگا دیا جائے، یقیناً وہ نوجوان پھر اکثر ساری رات ہوٹلوں پہ گزارتے ہیں اور بعد میں ائمہ حضرات سارا سال یہ شکایت کرتے ہیں کہ نوجوان نسل مسجد میں نہیں آتی۔ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرما دیجیے۔
جواب: واضح رہے کہ رمضان المبارک کے مسنون اعتکاف کے لیے مُعتکِف کا بالغ ہونا شرط نہیں ہے بلکہ صرف عاقل اور مُمَیِّز ہونا کافی ہے، یعنی وہ نابالغ بچے جو صحیح اور غلط میں تمیز کرسکتے ہیں اور عبادت کا مطلب سمجھتے ہیں اور صحیح طریقے کے مطابق عبادت کرسکتے ہیں تو ایسے نابالغ بچوں کا اعتکاف کے لیے بیٹھنا جائز ہے، اسی طرح بالغ نوجوان کا اعتکاف بھی درست ہے، البتہ اعتکاف ایک جامع عبادت ہے، جس میں بیٹھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مُعتکِف اپنی روزمرّہ زندگی کے ماحول سے نکل کر مکمل یکسوئی کے ساتھ عبادت کرے اور گناہوں سے بچے، نیز مسجد ایک اجتماعی عبادت کی جگہ ہے جہاں مختلف مزاج اور عمر کے لوگ جمع ہوکر اعتکاف کرتے ہیں، اس لیے دورانِ اعتکاف عبادت کے ماحول کو قائم رکھنا اور تمام معتکفین کی سہولت کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔
جہاں تک آپ کا ایسے نوجوانوں کے اعتکاف کے بارے میں سوال ہے جو سال بھر مسجد نہیں آتے اور انہیں عبادت کا شوق نہیں ہے تو ان کے بارے میں یہ شکایت زبان زدِ عام ہے کہ یہ ٹولوں کی شکل میں مسجدوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور ساری ساری رات باتوں میں گزار دیتے ہیں اور موبائل فون کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، جس سے نہ صرف دیگر سنجیدہ مُعتکِفین کی عبادات میں خلل پڑتا ہے بلکہ مسجد کا تقدّس بھی پامال ہوتا ہے۔
لہذا اگر کسی شخص(چاہے نوجوان ہو یا بڑی عمر کا ) کے بارے میں امام مسجد اور اہل محلہ کے مسلسل مشاہدے میں یہ بات آرہی ہو کہ وہ اعتکاف اور مسجد کے آداب کی رعایت نہیں کررہا اور وعظ و نصیحت اور مسلسل سمجھانے کے باوجود اس کے رویّہ میں تبدیلی نہیں آرہی ہے تو انتظامی وجوہات کی بنا پر ایسے شخص کو اعتکاف کی اجازت نہ دینے کی گنجائش ہے، لیکن چند نوجوان کے عمل کی وجہ سے تمام نوجوانوں سے یکساں سلوک کرنا درست نہیں بلکہ اگر کوئی نوجوان اعتکاف کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے اجازت دے دینی چاہیے تاکہ وہ باقی نوجوانوں کے لیے مثال بن سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع: (108/2، ط: دارالکتب العلمیة)
وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادة، كما يصح منه صوم التطوع۔
الفقه الاسلامی و ادلته: (630/2، ط: حقانیه)
یجتنب المعتکف کل مالا یعنیہ من الأقوال والأفعال، ولا یکثر الکلام، لان من کثر کلامہ کثر سقطہ وفی الحدیث "من حسن اسلام امرء ترکہ مالا یعنیہ"
رد المحتار: (350/6، ط: دارالفکر)
وَمَا كَانَ سَبَبًا لِمَحْظُورٍ فَهُوَ مَحْظُورٌ اه.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی