سوال:
السلام علیکم! سوال یہ ہے کہ ایک مشترکہ خاندانی نظام میں ایک چھت کے نیچے تین بھائی اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہے ہوں، اگر کوئی معاہدہ نہ زبانی ہو نہ تحریری اورر اس میں اگر بھائی نقدی یعنی cash جمع کر کے شریک ہو، اس کی تنخواہ اور دیگر مراعات زیادہ ہوں۔ دوسرا بھائی گھر کے اندر گرین بیلٹ کی نگہداشت بشمول 2 مالی کی تنخواہ کا ذمہ دار ہو ، کوئی نقدی نہی دیتا ہو ، اس کی سیلری کی انکم بھی کم ہو اور دیگر مراعات بھی نہ ہوں۔ تیسرا water supply including pumps and water tanker اور ڈیزل جنریٹر بمعہ ڈیزل اور اس کی maintenance کی ذمہ داری ادا کرتا ہو ۔ اس کی بھی آمدنی کم اور مراعات نہیں ہوں، پہلے بھائی نے دوسرے اور تیسرے کو کبھی بھی کیش کا کہا بھی نہ ہو اور کوئی ریکارڈ بھی نہ ہو۔
جب کچھ سال بعد سب علیحدہ ہوں اور کچھ نقدی کی بچت ہو تو کیا وہ نقدی ساری پہلا بھائی رکھ لے گا، دوسرے اور تیسرے کو کچھ نہی دے گا کہ تمہاری کوئی مالی شرکت نہیں تھی، کیش تو صرف میں نے ہی دیا ہے؟
اب جب کہ کوئی آمدن و خرچ کا ریکارڈ ہی نہیں، سب کچھ good faith میں ہوا ہے، کوئی حلف پر نہیں آرہا ہے، دو بھائی جنہوں نے کیش نہیں دیا وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جس بھائی نے کیش دیا ہے، وہ گھر کے کل اخراجات کا اندازے سے 60 فی صد بنتا ہے اور باقی دونوں کا 20 ، 20 فیصد اندازے سے ۔ ہم کو اسی تناسب سے کیش دیا جائے لیکن کیش دینے والا بھائی راضی نہیں ہے۔
مجھے ثالث مقرر کیا گیا ہے ۔ میرے ناقص علم کے مطابق شراکت صرف کیش کی نہیں ہوتی، وہ KIND کی بھی ہوسکتی ہے، اس لئے اگر کیش والے نے 80 فی صد بھی خرچ برداشت کیا ہے تو باقی دونوں کو 10، 10 فی صد بھی ضرور دے ورنہ ثابت کرے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ، اس کی کوئی WORTH نہی ۔ میں چونکہ ELECTRICAL / MECHANICAL ENGINEER ہوں، اس لئے مجھے یقین ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے بھی INDIRECTLY کیش ہی خرچ کیا ہے۔ مالی کی تنخواہ ہر ماہ کیش ہی ادا ہوئی ہے، چاہے 10فی صد ہی سہی۔ لہذا ان کو اسی کم از کم 10 فی صد کے تناسب سے کیش لوٹائے اور وہ صاحب حیثیت ہے تو 20 فی صد دے کر آخرت کی مشکل سے اپنے آپ کو بچا لے۔ براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
تنقیح:
محترم! آپ کا سوال واضح نہیں ہے، براہ کرم درج ذیل باتوں کی وضاحت فرمائیں کہ:
1) جو بھائی جو نقدی دیتا ہے اس کے پیسے دے کر شریک ہونے سے کیا مراد ہے؟ یہ پیسے کہاں جمع کئے تھے؟
2) علیحدگی کے وقت رقم بچ جانے سے کون سی رقم مراد ہے اور کہاں سے بچ گئی؟
ان باتوں کی وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ
جواب تنقیح:
مفتی صاحب! مزید تفصیل جو معلوم ہوئی ہے وہ درج کر رہا ہوں:
تینوں بھائی نوکری پیشہ ہیں، کسی نے کوئی بھی ذاتی کاروبار نہی کیا۔ ایک گھر / بنگلہ 1000گز پر محیط ، ایک چھت کے نیچے اس کے روزانہ کے کھانے، پینے سودا سلف، یوٹیلیٹی bills کے اخراجات نقدی والے بھائی کی شرکت contribution سے ادا ہوتے تھے۔ یہ رقم ہر ماہ نقدی والا بھائی اس بھائی کے پاس جمع کرتا تھا جو generator وغیرہ کی ذمہ داری نبھاتا تھا، generator والا بھائی خزانچی تھا اور ضرورت کے مطابق خرچ کرتا تھا، ہر ماہ کی saving بھی اس ہی کے پاس رہتی تھی جس کا علم نقدی والے بھائی کو تھا ۔
جنریٹر والے بھائی نے بتایا جس سے باقی دونوں بھائیوں نے اتفاق کیا کہ اسی جنریٹر والے بھائی نے 20 kva کا imported generator اپنی طرف سے آمدن سے خرید کر لگایا تھا۔ جس کمپنی سے خریدا تھا، وہی کمپنی ماہانہ اس کو maintain کرتی تھی اور باقاعدہ bill پر اس کمپنی کو payment جنریٹر والا بھائی اپنی آمدنی سے ہی کرتا تھا، بقول لگانے والے بھائی کے اس وقت اس جنریٹر کی قیمت 10 لاکھ سے زائد تھی، اسی طرح پانی کے پمپ بھی اسی نے خرید کے لگوائے تھے۔
جو بھائی گرین بیلٹ کا ذمہ دار تھا، اس نے ڈھاکہ grass و دیگر ضروی سامان خرید کر گرین بیلٹ تیار کیا، جس میں rockery and fountain بھی شامل ہیں، وہی اس کو دو مالیوں کے ذریعے maintain کرتا تھا اور حسب ضرورت پانی کے tanker خرید کر گھر میں پانی کی supply کو بھی یقینی بناتا تھا، اسی بھائی نے بنگلہ میں CCTV SYSYEM اور بڑی تعداد ELECTRICAL FITTINGS & FIXTURE بھی لگوائے، جنریٹر والا بھائی اس سے اتفاق کرتا ہے۔
میرے سوال پر کم آمدنی میں جنریٹر، بجلی کے سامان، CCTV SYSTEM, پمپ وغیرہ پر خطیر رقم کس طرح خرچ ہوئی تو جنریٹر والے بھائی نے بتایا کہ وہ ایک ENGINEERING کے ادارے میں کام کرتا تھا، جہاں کئی کمپنی CONTRACTORS کے طور پر کام کرتی تھیں، ان کمپنیوں نے آسان شرائط پر سامان دیا جس کی ادائیگی جنریٹر والے اور گرین بیلٹ والے بھائی نے اپنی اپنی سہولت سے کی۔
نقدی والا بھائی ان دونوں بھائیوں کے سامان و سروس سے گھر کے امور میں شرکت کا اقرار کرتا ہے۔ اس طرح تینوں بھائی گھر کے مختلف امور میں شریک ہوئے، کوئی کم کوئی زیادہ اپنی اپنی حیثیت میں اور جب تک ساتھ رہے کوئی اختلاف نہیں ہوا۔
جواب: سوال اور وضاحت کے مطابق اگر پہلا بھائی جو نقد رقم گھریلو اخراجات کے لئے دوسرے بھائی کو دیتا تھا، وہ صرف گھریلو خرچوں کے لئے ہوتی تھی، دوسرا بھائی پہلے بھائی کی نیابت میں وہ پیسے گھریلو اخراجات میں صرف کرتا تھا، نیز دیگر بھائی براہِ راست کوئی پیسے نہیں دیتے تھے تو چونکہ یہ معلوم ہے کہ تقسیم کے وقت جو نقد رقم دوسرے بھائی کے پاس بچی ہے، وہ پہلے بھائی کی دی ہوئی رقم ہے (کیونکہ دیگر بھائیوں نے کوئی رقم نقد کی شکل میں نہیں دی)، لہٰذا اس کا مالک بھی وہی ہوگا، دیگر بھائی اس میں شریک نہیں ہوں گے۔
اسی طرح دوسرے اور تیسرے بھائی نے جو چیزیں گھر میں لگائی ہیں، اگر وہ بھی سب کو مالک بنا کر نہیں لگائی تھیں تو وہ بھائی اپنی اپنی لگائی ہوئی چیزوں کے مالک ہوں گے۔
واضح رہے مشترکہ رہائش کے دوران جو اخراجات تمام بھائی کرتے رہے ہیں تو چونکہ اس کا فائدہ سب اٹھاتے رہے ہیں، لہٰذا یہ ایک دوسرے کی طرف سے بھلائی اور احسان سمجھا جائے گا، لہٰذا سب بھائیوں کو چاہیے کہ اس معاملہ کو بھی باہمی خیر خواہی اور صلح کے ساتھ حل کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (2/ 17)
(سئل) في ابن كبير له عيال وكسب مات أبوه عنه وعن ورثة يدعون أن ما حصله من كسبه مخلف عن أبيهم ويريدون إدخاله في التركة فهل حيث كان له كسب مستقل يختص بما أنشأه من كسب وليس للورثة مقاسمته في ذلك ولا إدخاله في التركة؟ (الجواب) : نعم.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (2/ 18)
وأجاب أيضا عن سؤال آخر بقوله إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثا بيقين والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته.
کذا فی تبویب فتاوی جامعه دار العلوم کراتشي: رقم الفتوی: (1849/52)
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی