resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مسجد کا چندہ مدرسہ کے اکاؤنٹ میں رکھنا

(39805-No)

سوال:
مفتی صاحب! اگر مسجد کے چندے کی رقم (جو سولر کیلئے جمع شدہ ہو) مدرسے کے اکاؤنٹ میں رکھنے میں کوئی حرج تو نہیں؟ واضح رہے کہ مدرسہ کے اکاؤنٹ میں زکوٰۃ کی رقم بھی ہے۔

جواب: واضح رہے کہ مسجد اور مدرسہ میں خرچ ہونے والے چندے کی نوعیت الگ الگ ہے، عام طور پر مدرسہ کے چندے میں صدقاتِ واجبہ اور زکوٰۃ کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے، جبکہ مسجد صدقاتِ واجبہ اور زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ مسجد اور مدرسہ کا چندہ الگ الگ رکھا جائے، تاکہ بے احتیاطی میں غلطی سے بچا جاسکے، البتہ اگر کوئی شخص رقم کا حساب رکھتے ہوئے مسجد اور مدرسے کے چندے کو ایک ساتھ رکھ لے اور خرچ کرتے وقت کسی اشتباہ کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ مسجد کے سولر کے پیسے مدرسہ کے اکاؤنٹ میں بغرضِ حفاظت رکھ سکتے ہیں، البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کا واضح (تحریری) ریکارڈ بنالیں تاکہ وقت گزرنے کے بعد کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*مجلة الأحكام العدلية: (ص: 151، المادة 788)*
خلط الوديعة بلا إذن صاحبها مع مال آخر بصورة يتعذر ولا يمكن معها تفريقها عنه يعد تعديا. بناء عليه إذا خلط المستودع مقدار الدنانير ذات المائة المودعة عنده بدنانير بلا إذن ثم ضاعت أو سرقت يكون ضامنا، خلط الوديعة بلا إذن المودع مع مال آخر بحيث يتعذر فلا يمكن تفريقها عنه أو أمكن بتعسر يعد تعديا، يعني موجبا للضمان۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Rights & Etiquette of Mosques