resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مسجد کی دکانوں پر مسجد کے فنڈ سے شیڈ (Shed) لگانا

(42035-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! پوچھنا یہ ہے کہ اگر کسی مسجد کی دکانیں ہوں اور ان دکانوں کا کرایہ مسجد کو مل رہا ہو، مسجد انتظامیہ ان دکانوں کو از سرنوع تعمیر کر کے دکانداروں کو دے اور انہی دکانداروں میں مسجد کے اپنے متولی کی بھی دکان ہو اور مسجد انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ہو کہ دکان کے آگے شیڈ لگائیں اور اس شیڈ کے بننے میں کچھ رقم مسجد کی بھی لگے، باقی رقم دکاندار کی لگے پھر جب دکاندار دکان خالی کرے گا تو وہ شیڈ مسجد کی ملکیت ہو جائے گا۔ اس شیڈ سے صرف دکاندار ہی مستفید ہو رہے ہیں، سایہ کی صورت میں مسجد اور نمازیوں کا اس سے کوئی فائدہ نہیں نظر آرہا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ سے یہ بات معلوم کرنی ہے کہ اس میں کچھ رقم مسجد کے چندہ کی بھی استعمال ہو رہی ہے تو کیا ایسا کرنا مسجد انتظامیہ کے لیے درست ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں مسجد کے اوقاف، چندے اور دیگر فنڈز (Funds) چونکہ شرعاً امانت اور مصالحِ مسجد کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، اس لیے ان رقوم کو دکانوں کے آگے شیڈ بنانے پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے مسجد یا نمازیوں کا کوئی براہِ راست فائدہ وابستہ نہیں بلکہ اصل نفع دکانداروں کو حاصل ہوتا ہے، البتہ اگر کسی تعمیر یا سہولت سے مسجد کی آمدنی میں واضح اضافہ ہو اور وہ سرمایہ کاری کے طور پر مسجد کے حق میں مفید ہو تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن محض کرایہ داروں کی سہولت کے لیے وقف کی رقم خرچ کرنا درست نہیں۔
مزید یہ کہ چونکہ ان دکانداروں میں مسجد کا متولی بھی شامل ہے، اس لیے اپنے ذاتی مفاد سے متعلق فیصلے میں وقف کے اختیارات استعمال کرنا شرعاً محلِّ تہمت اور امانت کے خلاف ہے، کیونکہ متولی وقف کا امین ہوتا ہے اور اسے اپنے ذاتی فائدے والے معاملات سے خود کو الگ رکھنا چاہیے۔ نیز یہ شرط کہ مستقبل میں دکان خالی ہونے پر شیڈ مسجد کی ملکیت بن جائے گا، موجودہ ناجائز خرچ کو جائز نہیں بناتی، کیونکہ مسجد کا نقد سرمایہ ایک ایسی چیز پر خرچ کیا جا رہا ہے جو وقت کے ساتھ فرسودہ ہوجاتی ہے، لہٰذا درست طریقہ یہی ہے کہ اگر دکاندار اپنی سہولت کے لیے شیڈ لگانا چاہیں تو وہ اپنی ذاتی رقم سے انتظامیہ کی اجازت کے بعد یہ کام کریں، اور معاہدے میں یہ طے کرلیا جائے کہ دکان خالی کرتے وقت یا تو شیڈ ہٹا کر جگہ اصل حالت میں بحال کریں گے یا بغیر کسی معاوضے کے مسجد کے لیے چھوڑ دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*المحيط البرهاني في الفقه النعماني: (7/ 654 دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)*
استأجر حانوتاً موقوفاً على الفقراء وأراد أن يبني عليه غرفة من ماله، وينتفع بها من غير أن يزيد في أجره، فحينئذ يبني على مقدار ما لا يخاف على البناء القديم من ضرر، وإن كان هذا حانوتاً يكون معطلاً في أكثر الأوقات، وإنما رغب فيه المستأجر لأجل البناء عليه، فإنه يطلق له في ذلك من غير زيادة في الأجر؛ لأن فيه مصلحة الوقف.


*المبسوط للسرخسي: (111/1 دار المعرفة - بيروت)*
وإذا كان عند الرجل وديعة دراهم أو دنانير، أو شيء من المكيل، أو الموزون فأنفق طائفة منهما في حاجته كان ضامنا لما أنفق منها.

*البحر الرائق شرح كنز الدقائق : (275/5 دار الكتاب الإسلامي)*
متولي الرباط إذا صرف فضل غلة الرباط في حاجة نفسه قرضا لا ينبغي له أن يفعل.

*البحر الرائق شرح: (2/ 39 دار الكتاب الإسلامي)*
وقيدوا بالمسجد إذ نقش غيره موجب للضمان إلا إذا كان مكانا معدا للاستغلال تزيد الأجرة به فلا بأس به وأرادوا من المسجد داخله لقول صاحب النهاية ولأن في تزيينه ترغيب الناس في الاعتكاف والجلوس في المسجد لانتظار الصلاة وذلك حسن اه.فيفيد أن تزيين خارجه مكروه وأما من مال الوقف فلا شك أنه لا يجوز للمتولي فعله مطلقا لعدم الفائدة فيه.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Rights & Etiquette of Mosques