سوال:
مفتی صاحب! پوچھنا یہ تھا کہ ہماری مسجد میں قالین صاف کرنے والی مشین ہے، ہمارے پڑوس کی مسجد والے وہ مشین مسجد کی قالین صاف کرنے کے لیے مانگ رہے ہیں تو کیا ان کو دے سکتے ہیں؟ ایک مسجد کی چیز کو دوسری مسجد میں استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ مسجد کے لیے وقف شدہ اشیاء کو اسی مسجد میں استعمال کرنا ضروری ہے جس کے لیے وہ وقف کی گئی ہوں، اس لیے بلا ضرورت ان کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا یا استعمال کرنا جائز نہیں،البتہ اگر واقف نےشروع میں ہی یہ نیت کر رکھی ہو کہ ان کو بوقت ضرورت دوسری مسجد میں بھی استعمال کر سکتے ہیں یا پہلی مسجد میں وہ چیزیں غیر مستعمل ہونے کی وجہ سے ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں دوسری مسجد میں منتقل یا استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل
رد المحتار: (ﻓﺮﻉ ﺑﻨﺎء ﺑﻴﺘﺎ ﻟﻹﻣﺎﻡ ﻓﻮﻕ اﻟﻤﺴﺠﺪ،359/4،ط: سعيد)
ﻭﻧﻘﻞ ﻓﻲ اﻟﺬﺧﻴﺮﺓ ﻋﻦ ﺷﻤﺲ اﻷﺋﻤﺔ اﻟﺤﻠﻮاﻧﻲ ﺃﻧﻪ ﺳﺌﻞ ﻋﻦ ﻣﺴﺠﺪ ﺃﻭ ﺣﻮﺽ ﺧﺮﺏ، ﻭﻻ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻟﺘﻔﺮﻕ اﻟﻨﺎﺱ ﻋﻨﻪ ﻫﻞ ﻟﻠﻘﺎﺿﻲ ﺃﻥ ﻳﺼﺮﻑ ﺃﻭﻗﺎﻓﻪ ﺇﻟﻰ ﻣﺴﺠﺪ ﺃﻭ ﺣﻮﺽ ﺁﺧﺮ: ﻓﻘﺎﻝ: ﻧﻌﻢ
رد المحتار:(فرع بناء بيتا الامام فوق المسجد،360،359/4،ط: سعيد)
ﺛﻢ ﺫﻛﺮ اﻟﺸﺮﻧﺒﻼﻟﻲ ﺃﻥ ﻫﺬا ﻓﻲاﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﺨﻼﻑ ﺣﻮﺽ ﻭﺑﺌﺮ ﻭﺭﺑﺎﻁ ﻭﺩاﺑﺔ ﻭﺳﻴﻒ ﺑﺜﻐﺮ ﻭﻗﻨﺪﻳﻞ ﻭﺑﺴﺎﻁ ﻭﺣﺼﻴﺮ ﻣﺴﺠﺪ، ﻓﻘﺪ ﺫﻛﺮ ﻓﻲ اﻟﺘﺘﺎﺭﺧﺎﻧﻴﺔ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ ﺟﻮاﺯ ﻧﻘﻠﻪا اﻩ
احسن الفتاویٰ:(باب المساجد،427/6،ط: سعید)
"مسجد کا دوسری قسم کا سامان جس میں کوئی دخل نہیں،جیسے چٹائی فانوس وغیرہ اسے آلات المسجد کہا جاتا ہے،اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس مسجد میں ضرورت نہیں تو اس کا دوسری مسجد کی طرف منتقل کرنا جائز ہے بشر طیکہ کے واقف بھی اجازت دے،اس لیے کہ ایسا سامان بوقت استغناء ملک واقف میں عود کر آتا ہے،لہذا واقف کا اذن ضروری ہے"
واللہ تعالٰی اعلم باالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی