سوال:
مفتی صاحب! ایک چار سو گز کا پلاٹ مسجد کے لیے لیا گیا تھا۔ اس کے پچھلے حصے پر مسجد اور آگے کے کچھ حصے پر مدرسہ کا دفتر، دکان، اور اس دفتر کے اوپر امام صاحب کا گھر تعمیر کیا گیا تھا۔ اب وہ مسجد شہید کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ یہ چاہ رہی ہے کہ پہلے جس جگہ مسجد تھی، اب وہاں مدرسہ کا دفتر اور اس کے اوپر امام صاحب کا گھر وغیرہ تعمیر ہو جائے، اور جہاں پہلے دفتر اور امام صاحب کا گھر تھا، وہاں مسجد تعمیر کر دی جائے۔
1) اس ضمن میں معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا انتظامیہ کو اس طرح آگے پیچھے کرنے کا اختیار ہے؟
2) نیز یہ بھی بتائیں کہ لوگ تو مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دے رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ اسی مسجد کے نام سے لیے ہوئے چندے سے مدرسہ کا دفتر، امام صاحب کا گھر اور دکانیں وغیرہ بنا رہی ہے، تو کیا یہ درست ہے؟ براہِ کرم ان دونوں سوالات کے جوابات عنایت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: جب کوئی جگہ مسجد کے لیے وقف کرکے وہاں نمازِ باجماعت ادا کر لی جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے شرعاً مسجد بن جاتی ہے، لہٰذا سابقہ مسجد والی جگہ کو گرا کر وہاں مدرسہ کا دفتر، دکانیں یا امام صاحب کی رہائش گاہ بنانا اور مسجد و غیر مسجد حصوں کو آپس میں تبدیل کرنا ناجائز ہے، نیز مسجد کے نام پر جمع شدہ چندہ صرف مسجد اور اس کی ضروریات پر ہی خرچ کیا جا سکتا ہے، اسے دکان، دفتر وغیرہ کی تعمیر میں استعمال کرنا امانت میں خیانت اور شرعاً ناجائز ہے، اس لیے انتظامیہ پر لازم ہے کہ سابقہ مسجد والی جگہ کو دوبارہ مسجد ہی کے لیے مخصوص کرے اور وقف کے احکام کی پابندی کرے۔
امام کی رہائش گاہ اگرچہ مصالح مسجد میں داخل ہونے کی وجہ سے عام چندہ سے اس کی تعمیر جائز ہے، لیکن یہاں چونکہ شرعی مسجد کی جگہ پر امام مسجد کے گھر کی تعمیر ہونے کی بات ہو رہی ہے، اس لیے یہ تعمیر ناجائز ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار (4/ 358 دار الفكر-بيروت)
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 358 دار الفكر-بيروت)
مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره (قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 271 دار الكتاب الإسلامي)
وقال أبو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى كذا في الحاوي القدسي وفي المجتبى وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه.
في التنوير مع الدر(كتاب الصلاة،مطلب يبدأ من غلة الوقف بعمارته،4366-371،ط:سعيد):
(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين فتح، فإن خيف كإمام وخطيب وفراش قدموا فيعطى المشروط لهم..... ثم الفاضل للفقراء أو للمستحقين...... ويدخل في وقف المصالح قيم ... إمام خطيب والمؤذن يعبرالشعائر التي تقدم شرط أم لم يشترط بعد العمارة هي إمام وخطيب ومدرس ووقاد وفراش ومؤذن وناظر.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی