سوال:
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته، محترم مفتی صاحب! میرا تعلق ویب ڈیولپمنٹ کے شعبے سے ہے اور میں بطور ویب ڈویلپر کام کرتا ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس ایک پروجیکٹ آیا ہے جس میں ایک اسٹوڈیو کے لیے ویب سائٹ بنانی ہے۔ اس اسٹوڈیو میں مختلف قسم کے شوٹس کیے جاسکتے ہیں، مثلاً: پوڈکاسٹ ریکارڈنگ، ویڈیو/فوٹو شوٹس، شادی کے بعد فوٹو سیشن وغیرہ، اس ویب سائٹ کا بنیادی مقصد یہ ہوگا کہ لوگ آن لائن اس اسٹوڈیو کو بک کر سکیں (یعنی سلاٹ ریزرویشن وغیرہ)۔
واضح رہے کہ اسٹوڈیو کو کن لوگوں کو اور کن مقاصد کے لیے کرائے پر دینا ہے، یہ اختیار مکمل طور پر اسٹوڈیو کے مالک (ویب سائٹ بنوانے والے/ کلائنٹ) کے پاس ہوگا، اور اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔
میرا کردار صرف ویب سائٹ ڈیزائن اور ڈیولپمنٹ تک محدود ہوگا، اور میرا براہِ راست ان شوٹس یا ان کے مواد سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسی ویب سائٹ بنانا شرعاً جائز ہے، جبکہ اس میں ممکنہ طور پر جائز اور ناجائز دونوں طرح کے استعمال کا امکان موجود ہو؟ اور کیا اس کام کی آمدنی میرے لیے حلال ہوگی؟
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ ایسی ویب سائٹ بنانا جو ناجائز کاموں کے ساتھ خاص نہ ہو، بلکہ اس کا جائز استعمال بھی ممکن ہو اور ویب سائٹ بنانے والے کی طرف سے ناجائز کاموں میں معاونت بھی مقصود نہ ہو تو ایسی ویب سائٹ بناکر دینے کی گنجائش ہے، اس کو ناجائز کاموں میں استعمال کرنے کی صورت میں استعمال کرنے والے کو اس کا گناہ ہوگا۔
اسٹوڈیو کا چونکہ جائز استعمال بھی موجود ہے (جیسے کسی جائز پروگرام کی ریکارڈنگ وغیرہ ) لہذا پوچھی گئی صورت میں اسٹوڈیو (Studio) کی بکنگ (booking) کے لیے ویب سائٹ بنانا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (المائدۃ، الآية: 2)
وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ و الْعُدْوَانِ....الخ
تکملة فتح الملهم: (608/3، طُ: المکتبة الأشرفیة)
والظاہر أن هذہ الکراہة إنما تثبت إذا تعاطاہ الرجل لغرض غیر مشروع، وأما إذا تعاطاہ لغرض مشروع، کالدواء والضماد وغیرہ فیما یجوز استعماله فیه، فالظاہر انتفاء الکراہة حینئذ
فقه البیوع:( 1/194)، ط: مکتبة معارف القرآن)
وکذٰلک الحکم فی برمجة الحاسب الآلی (الکمبیوتر) لبنك ربوی، فإن قصد بذٰلك الإعانة، أو کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح إلا فی الاعمال الربویة،أو الأعمال المحرمة الأخری، فإن العقد حرام باطل. أما اذا لم یقصد الإعانة، ولیس فی البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمة، صح العقد وکرہ تنزیها.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی