resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: افیون کی کاشت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی، نیز اس کے باغات میں کام کرنے والے مزدور حضرات کی کمائی کا حکم

(39833-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
بلوچستان کے بعض علاقوں، مثلاً گلستان، پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن وغیرہ میں افیون (تریاق) کی کاشت ایک معروف اور مشاہدہ شدہ امر ہے۔ یہ بات یقینی حد تک واضح ہوچکی ہے کہ اس کی پیداوار بالواسطہ یا بلاواسطہ اُن افراد تک پہنچتی ہے جو نشہ کے عادی ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کے متعدد نوجوان اس مہلک لت میں مبتلا ہوچکے ہیں، اور افسوسناک طور پر بعض کاشتکاروں کے اپنے گھروں کے افراد بھی اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ نہیں رہ سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ، افیون کی کاشت نے معاشرتی اور اخلاقی بگاڑ کو بھی جنم دیا ہے۔ مختلف مقامات پر زمینوں کے تنازعات، جھگڑے اور دیگر ناخوشگوار واقعات اسی کا شاخسانہ معلوم ہوتے ہیں۔ مزید برآں، حکومتی سطح پر بھی اس عمل کی نہ صرف اجازت نہیں بلکہ اس کے سدباب کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں، جن میں کاشتکاروں کے سولر سسٹمز کی ضبطی، بورنگ کے ذرائع کو ناکارہ بنانا اور پانی کی فراہمی کو محدود کرنا شامل ہے۔
ان تمام حالات و قرائن کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
افیون کی کاشت کا شرعی حکم کیا ہے، جبکہ اس کے مضر اثرات اور استعمال کا رخ واضح ہو؟
اس کاشت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے، آیا یہ حلال شمار ہوگی یا حرام؟
وہ افراد جو مجبوری کے تحت اس عمل میں بطور مزدور شریک ہوتے ہیں، ان کی اجرت اور آمدنی کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً مذکورہ علاقوں میں اَفیون (تَریاق) کا استعمال صرف نشے کے طور پر ہوتا ہے، اور حکومت کی طرف سے اس کی کاشت کرنے پر پابندی بھی ہے تو ایسی صورت میں افیون کی کاشت اور تجارت کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر ادویات وغیرہ میں افیون کا جائز استعمال ممکن ہو تو اس صورت میں اس کی کاشت سے حاصل ہونے والی آمدنی یا اس میں کام کرنے والے مزدور حضرات کی اجرت کو حرام تو نہیں کہا جائے گا، لیکن اس کے باوجود چونکہ اس کا زیادہ استعمال نشہ کے طور پر ہو رہا ہے، اس لیے ایسے کاموں میں تجارت وغیرہ کے مشغلہ سے بہر حال بچنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (458/6، ط: دار الفکر)
(ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئا من ذلك لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعزر بما دون الحد) كذا في الجوهرة.

فيه أيضاً: (454/6، ط: دار الفكر)
(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.
قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل.
(قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.
ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية وكان ينبغي للمصنف ذكر ذلك قبيل الأشربة المباحة، فيقول بعد قوله ولا يكفر مستحلها: وصح بيعها إلخ كما فعله في الهداية وغيرها، لأن الخلاف فيها لا في المباحة أيضا إلا عند محمد فيما يظهر مما يأتي من قوله بحرمة كل الأشربة ونجاستها تأمل.

کذا فی تبویب فتاویٰ دارالعلوم کراتشی، رقم الفتویٰ: 802/75

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial