resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کی وصولی اور ان کو مدرسے کی ضروریات میں خرچ کے لیے مدرسے میں زیرِ تعلیم مستحق بچیوں سے وکالت نامہ حاصل کرنا

(39856-No)

سوال: ہم نے لڑکیوں کا ایک مدرسہ قائم کیا ہے، جہاں نوارانی قاعدہ، تجوید کے ساتھ قرآن کریم اوردینی مسائل سکھائے جاتے ہیں۔ امور خانہ داری کا بھی نظم ہے، اس میں بہت ساری بچیاں غریب ہیں، بہت ساری یتیم بھی ہیں یعنی وہ زکاۃ کی مستحق ہیں، تاہم بعض بچیاں اور ان کے والدین زکاۃ کی مستحق نہیں ہیں، زکاۃ کی مستحق بچیوں نے ہم کو درج ذیل امور کاوکیل بنایا ہے:
(الف)آپ ہماری طرف سے زکاۃ، صدقات، خیرات، منت، نذر اور انٹرسٹ کی رقم وصول کریں۔
(ب)آپ جس کو چاہیں وکیل بھی بناسکتے ہیں۔
(ج) آپ ہماری طرف سے وصول شدہ رقم کو مدرسہ کی کی ضروریات جیسے تعلیم، تعمیر، تنخواہ، لائٹ بل، بچیوں کے وظیفے، خوراک اور دیگر اخراجات میں استعمال کریں۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ اس وکالت کی بنیاد پر
(الف)کیا ہم لوگوں سے زکاۃ کی رقم حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(ب)کیا دوسرے کو زکات وصول کرنے کے لئے وکیل بناسکتے ہیں؟
(ج)کیا ہم ان کی رقم کو مدرسہ کی ضروریات کے لئے استعمال کرسکتے ہیں اور اگر نہیں کرسکتے ہیں تو کس شکل میں کرسکتے ہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مدرسے میں زیرِ تعلیم مستحق بالغ بچیوں نے مذکورہ وکالت نامہ کے مطابق آپ حضرات کو زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کی وصولی کا وکیل بنایا ہے، اور مدرسے کی ضروریات میں خرچ کرنے کا مکمل اختیار دیا ہے تو آپ یا آپ کے مقرر کردہ وکیل کے لیے ان کی طرف سے زکوٰۃ وغیرہ کی رقم وصول کرکے مکمل دیانتداری کے ساتھ، مدرسے کی ہر قسم کی ضروریات یعنی تعلیم، خوراک اور بجلی کے بل وغیرہ میں خرچ کرنا جائز ہوگا۔
تاہم مدارس کے طلبہ و طالبات چونکہ علومِ نبوت کے حصول میں مصروف ہوتے ہیں، لہٰذا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ان عظیم مہمانوں کے لیے لوگوں سے انٹرسٹ (سودی رقم) وصول کرنا انتہائی نامناسب ہے۔ اس لیے مذکورہ وکالت نامہ سے انٹرسٹ والی شق کو ختم کرکے اس مد میں تعاون حاصل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الدر المختار: (344/2، ط: دار الفکر)*
ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره، ولو أذن فمات فإطلاق الكتاب يفيد عدم الجواز وهو الوجه نهر (و) لا إلى (ثمن ما) أي قن (يعتق) لعدم التمليك وهو الركن.
*وقدمنا لأن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم.*

*فيه أيضاً: (271/2، ط: دار الفكر)*
وحيلة التكفين بها التصدق على فقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما وكذا في تعمير المسجد.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat