resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سمولیٹڈ ٹریڈنگ (Simulated Trading) کا شرعی حکم

(39862-No)

سوال: میں آن لائن پراپ فرم کے ذریعے ٹریڈنگ کے شرعی حکم کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ جس کمپنی کو میں دیکھ رہا ہوں، وہ مکمل طور پر سمولیٹڈ (ڈیمو) ماحول میں کام کرتی ہے، حتیٰ کہ فنڈڈ اکاؤنٹس بھی سمولیٹڈ ہوتے ہیں اور ٹریڈز حقیقی مارکیٹ میں بطور CFD یا فیوچرز نافذ نہیں کیے جاتے، میری طرف سے بھی کوئی حقیقی CFD یا فیوچرز معاہدہ نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف قیمتوں کی نقل (سِمیولیشن) ہوتی ہے۔
البتہ فنڈڈ اکاؤنٹ حاصل کرنے کے لیے عموماً ایک فیس ادا کرنی پڑتی ہے جو ایک ایویلیوایشن چیلنج کے طور پر ہوتی ہے، بہت سے شرکاء اس میں ناکام ہو جاتے ہیں، اور کمپنی ان ناکام ہونے والوں کی فیس سے منافع کماتی ہے (اگرچہ ان کا اندرونی کاروباری ماڈل مکمل طور پر واضح نہیں ہوتا)۔
میرے سوالات درج ذیل ہیں:
کیا اس طرح کی ایویلیوایشن فیس ادا کرنا جائز ہے، جبکہ یہ سمولیٹڈ ماحول اور مہارت پر مبنی ہے؟
اگر میں بغیر فیس ادا کیے کسی مفت مقابلے کے ذریعے رسائی حاصل کروں تو کیا اس صورت میں شبہ ختم ہو جائے گا؟
اگر میں مفت اکاؤنٹ سے منافع حاصل کروں تو کیا بعد میں اس منافع کو استعمال کرتے ہوئے بڑے چیلنج اکاؤنٹ کی فیس ادا کرنا جائز ہوگا؟
میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ کسی بھی اسے معاملے سے بچ سکوں جو قمار (جوا) یا کسی ناجائز معاہدے سے مشابہ ہو۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب:
واضح رہے کہ آن لائن ٹریڈنگ کے مروّجہ طریقہ کار میں عام طور پر کئی شرعی مفاسد (غیر موجود چیز/معدوم کی خرید وفروخت، جوا، سٹّہ بازی، قبضہ کے بغیر خرید و فروخت وغیرہ) پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسے کام سے اجتناب کرنا لازم ہے‍۔
البتہ آپ نے سوال میں جو تفصیلات ذکر کی ہیں، ان کے مطابق مذکورہ ایپ میں حقیقی ٹریڈنگ نہیں ہو رہی، بلکہ صرف مصنوعی (سمولیٹڈ) طور پر ٹریڈنگ کی جاتی ہے، جس میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ مصنوعی ہوتا ہے، اور اس کا حقیقی مارکیٹ سے کوئی تعلّق نہیں ہوتا، چنانچہ اس تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1) فنڈڈ اکاؤنٹ حاصل کرنے کے لئے ایویلیو ایشن فیس ادا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ قمار کے زمرے میں آتا ہے کہ فیس دینے کے بعد یا تو فنڈ حاصل ہوجائے گا اور فیس کی اصل رقم بمع زائد رقم مل جائے گی، یا فیس کی اصل رقم ہی ضائع ہوجائے گی۔
2) بغیر فیس ادا کیے کسی مفت مقابلے کے ذریعے فنڈڈ اکاؤنٹ حاصل کرنا بذاتِ خود جائز ہوسکتا ہے (کیونکہ یہ کمپنی کی طرف سے تحفہ اور انعام سمجھا جائے گا)، البتہ چونکہ کمپنی کی آمدنی جوئے اور سٹہ کے کاروبار سے حاصل ہوتی ہے، اور کمپنی اسی سے فنڈ مہیا کرتی ہے، اس لئے یہ رقم لینے سے بھی اجتناب لازم ہے۔
3) مفت اکاؤنٹ سے منافع کس طرح حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقی ٹریڈنگ نہیں ہورہی، سوال میں اس کی وضاحت نہیں ہے، البتہ اگر یہ منافع محض قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے حاصل ہوتا ہے تو ایسا منافع کمانا اور اس سے کسی قسم کی فیس ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
خلاصہ یہ کہ مذکورہ ایپ کے ذریعہ کام کرنا قمار (جوا)، غرر (غیر یقینی صوررتحال) اور دیگر متعدّد شرعی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*قال اللہ تعالیٰ(الانعام:۹۰) :*
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصابُ وَالْأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون

*البحر الرائق (8/ 554 – ط: دار الكتاب الإسلامي):*
(وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين) لما روى ابن عمر رضي الله عنهما «أن النبي صلى الله عليه وسلم سبق بالخيل وراهن» ومعنى شرط الجعل من الجانبين أن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا ‌وهو ‌قمار ‌فلا ‌يجوز؛ ‌لأن ‌القمار ‌من ‌القمر ‌الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحدة منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص.

*الفتاوى الهندية (5/342 - الكراهية، ط: رشيدية):*
ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور ؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب ، وكذا أكل طعامهم ، كذا في الاختيار شرح المختار

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial