resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: روزہ کی حالت میں دانتوں کے علاج کا حکم

(39877-No)

سوال: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مفتی صاحب امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
اگر کسی کا رمضان میں دانتوں کا اپائنٹمنٹ (ہنگامی ضرورت کے تحت) ہو اور غالب گمان ہو کہ اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اپائنٹمنٹ کو جلدی تبدیل کرنا ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ اس دن روزہ رکھے یا روزہ نہ رکھے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر دانتوں کا علاج واقعی ہنگامی ضرورت کے تحت ہو اور اپائنٹمنٹ (Appointment) کو جلدی تبدیل کرنا یا روزہ افطار کے بعد رات کے وقت فلنگ وغیرہ کروانا ممکن نہ ہو تو عذر کی بنا پر دن کے وقت میں دانتوں کی فلنگ (Filling) وغیرہ کروائی جا سکتی ہے، اور چونکہ فلنگ کرواتے وقت عموماً دانتوں کی صفائی کے دوران پانی حلق سے نیچے اتر جانے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے، لہٰذا روزے کی حالت میں پانی حلق سے نیچے اتر جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور صرف اس کی قضا لازم ہوگی اور اگر پانی حلق سے نیچے نہیں جائے تو روزہ برقرار رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

الدر المختار:(ص:145، ط: دار الكتب العلمية)
(أو خرج الدم من بين أسنانه ودخل حلقه) يعني ‌ولم ‌يصل ‌إلى ‌جوفه، أما إذا وصل
فإن غلب الدم أو تساويا فسد، وإلا لا، إلا إذا وجد طعمه.
بزازية.

رد المحتار: (2/ 396، ط:مصطفى البابي الحلبي)
قلت: ومن هذا يعلم حكم من قلع ضرسه في رمضان ودخل الدم إلى جوفه في النهار ولو نائما فيجب عليه القضاء إلا أن يفرق بعدم إمكان التحرز عنه فيكون كالقيء الذي عاد بنفسه فليراجع

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)