سوال:
مفتی صاحب ! اگر کسی نے نفلی روزہ رکھا اور وہ پاک تھی، مگر بعد میں صبح 8:20 تک اس کو خون آگیا اور قاعدے کی رو سے وہ اس کا حیض کا آٹھواں دن بن رہا ہے تو اب اس نفلی روزے کی قضا کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟ اس کو حیض نو دن آتا ہے رہنمائی فرمائیے ۔جزاکم اللّٰہ خیرا کثیرا
جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں جس دن خاتون نے نفلی روزہ رکھا تھا، اس دن وہ حالتِ حیض میں تھی، قرآن و سنّت کی رُو سے حالتِ حیض میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، لہذا مذکورہ خاتون کا روزہ شروع ہی سے صحیح نہیں تھا، اس لیے حالتِ حیض میں رکھے گئے اس نفلی روزے کی قضا نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
فتاوی الھندیۃ: (1/38، ط: دارالافکر)
(ومنها) أن يحرم عليهما الصوم فتقضيانه هكذا في الكفاية إذا شرعت في صوم النفل ثم حاضت يلزمها القضاء احتياطا. هكذا في الظهيرية.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی