resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نقصان سے بچاؤ کے لیے مرغیوں کی چونچ کترنے کا شرعی حکم

(39881-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! رہنمائی فرمائیں کہ اکثر مرغیوں کے لڑنے اور انڈے کھانے کی وجہ سے ہم مرغیوں کی چونچ کتر دیتے ہیں، بعض اوقات چونچ کترنے کی وجہ سے چونچ سے خون بھی آجاتا ہے تو کیا انڈے حاصل کرنے کے لیے یہ کرنا ٹھیک ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مرغیاں آپس میں لڑتی ہوں، ایک دوسرے کو زخمی کرتی ہوں یا انڈے کھا کر نقصان کا سبب بن رہی ہوں تو اس ضرر سے بچنے کے لیے چونچ کترنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اس میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چونچ کا صرف اتنا ہی حصہ کاٹا جائے، جتنی واقعی ضرورت ہو، اس سے زیادہ نہ کاٹا جائے، اور چونچ کترنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس سے مرغیوں کو کم سے کم تکلیف ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الفتاویٰ الهندية:(اﻟﺒﺎﺏ اﻟﺤﺎﺩﻱ ﻭاﻟﻌﺸﺮﻭﻥ ﻓﻴﻤﺎ ﻳﺴﻊ ﻣﻦ ﺟﺮاﺣﺎﺕ ﺑﻨﻲ ﺁﺩﻡ ﻭاﻟﺤﻴﻮاﻧﺎﺕ،361/5،ط: دار الفكر)*
الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد كذا في الوجيز للكردري.....قتل الزنبور والحشرات هل يباح في الشرع ابتداء من غير إيذاء وهل يثاب على قتلهم؟ قال لا يثاب على ذلك وإن لم يوجد منه الإيذاء فالأولى أن لا يتعرض بقتل شيء منه كذا في جواهر الفتاوى....
ﻭﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﻘﻄﻊ ﺇﻟﻴﺔ اﻟﺸﺎﺓ ﺇﺫا اﻧﻔﻠﺘﺖ ﻭﻳﻤﻨﻌﻬﺎ ﻣﻦ اﻟﻠﺤﻮﻕ ﺑﺎﻟﻘﻄﻴﻊ ﻭﻳﺨﺎﻑ ﻋﻠﻴﻬﺎ اﻟﺬﺋﺐ ﻭﻛﺬا اﻟﺤﻤﺎﺭ ﺇﺫا ﻣﺮﺽ ﻭﻻ ﻳﻨﺘﻔﻊ ﺑﻪ ﻓﻼ ﺑﺄﺱ ﺑﺄﻥ ﻳﺬﺑﺢ ﻓﻴﺴﺘﺮاﺡ ﻣﻨﻪ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻔﺘﺎﻭﻯ اﻟﻌﺘﺎﺑﻴﺔ.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals